گونگے اور بہرے پن کا علاج (اوول ونڈو OVAL WINDOW اور ایٹمی اسپیس تھیوری)
Treatment for Mutism & Deafness (Speech & Hearing Restoration - Oval Window & Atomic Space Vibrations)
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
ماخذ کتاب: 'قدرت کی اسپیس' (صفحہ ۴۰-۴۱)، تصنیف/افادات: حضور قلندر بابا اولیاء (رحمۃ اللہ علیہ) / حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ): دانتوں کی اسپیس کا دار و مدار بھی ایٹموں کی تعداد پر ہے۔ ان کی سختی یا نرمی، بڑا ہونا یا چھوٹا ہونا اس بات سے متعلق ہے کہ اس میں ایٹموں کی تعداد کتنی صرف ہوئی ہے۔ اگر کسی فرد کے دانت نہیں ہیں تو اس کے منہ کے مزہ میں فرق آجائے گا۔ اگر سب دانت مصنوعی ہیں تو اصل مزہ نہیں آسکتا جو اصل دانتوں سے آتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصلی دانتوں کے مسوڑھوں میں ایٹموں کا مجموعہ ہوتا ہے، مگر مصنوعی دانت اپنے ایٹموں کو مسوڑھوں سے کچھ نہ کچھ حد تک الگ رکھتے ہیں جس سے ایک GAP پیدا ہو جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اصل مزہ جاتا رہتا ہے۔ یہی مسئلہ کان کے ساتھ ہے: کان کے اندرونی پردے پر جو ایٹم روئیں کی شکل اختیار کرتے ہیں اگر کسی وجہ سے وہ کمزور ہو جائیں یا ضرورت سے زیادہ موٹے ہو جائیں تو جھنجھناہٹ (VIBRATIONS) میں خامی آجائے گی اور سننے میں یا تو رکاوٹ ہوگی یا بالکل نہیں سنا جاسکے گا۔ اس سے یہ ہوگا کہ GATES نے سن کر حافظہ میں جو ریکارڈ جمع کیا ہے وہ سسپینڈ (SUSPEND) ہو جائے گا یا رک جائے گا اور نتیجہ کے طور پر حافظہ اس ریکارڈ کو واپس نہیں دے گا جو دماغ کے پردے پر اتنا ہلکا آتا ہے کہ دماغ کے حواس اسے پڑھ نہیں سکتے اور زبان اسے بول نہیں سکتی۔ ایسا شخص گونگا، بہرہ کہلاتا ہے۔ اگر بہرہ پن کسی طریقہ سے دور کیا جائے تو وہ بولنے بھی لگ جائے گا۔ یہ علاج ذرا مشکل ہے مگر ناممکن نہیں ہے۔ خیال رہے کہ یہ سب اسپیس کان، ناک، ہاتھ، زبان وغیرہ نہیں مگر ایک سایہ جو نورانی ہے اور نظر نہیں آتا۔ اس سایہ کو ہم چہرے کی شکل میں دیکھتے ہیں۔
وظیفہ مبارک و نقش
ترکیب و طریقہ کار
۲۔ اب جتنی جگہ کاٹی گئی ہے اس سے تھوڑا بڑا کاغذ کا ٹکڑا لے کر اس ٹکڑے کے اوپر بالکل قریب قریب نقطے لگائیں، چاہے پنسل سے چاہے قلم سے۔
۳۔ اب اس نقطوں والے ٹکڑے کو سوراخ کے نیچے رکھ کر گوند سے چپکا دیں۔
۴۔ پھر دونوں کان کاغذ پر چپکا کر ایک لفافہ میں ڈال دیئے جائیں۔
۵۔ اس لفافہ کو بٹر پیپر (BUTTER PAPER) کی تھیلی میں ڈال کر بٹر پیپر کا منہ بند کر دیا جائے (قبر جیسا بنالیا جائے)۔
۶۔ اور اسے گونگے، بہرے شخص کے تکیے کے نیچے رکھا جائے، جب وہ شخص لیٹے یا سوئے تو اسی تکیے پر اپنا سر رکھے۔
انشاء اللہ کان ٹھیک ہو جائیں گے اور تحت الشعور (SUB CONSCIOUS) کے ریکارڈز زبان بولنے لگے گی۔