شوہر کا غصہ ختم کرنے کے لئے
Spousal Anger Management & Domestic Harmony
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
بیوی شوہر کی نسبت زیادہ محبت کرنے والی ہوتی ہے۔ اس کے اندر محبت کا تلاطم خیز سمندر ہی ہے جس کی بناء پر نسل انسانی کی بقا اور نشوونما جاری ہے۔ اگر بیوی کے ساتھ پوری محبت کی جائے اور شوہر کی طرف سے اس کو ذہنی سکون میسر آجائے تو معاشرے کی زیادہ تر برائیاں ختم ہو سکتی ہیں جس کا اثر براہ راست آنے والی نسلوں پر پڑتا ہے۔
وظیفہ مبارک و نقش
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الْوَاسِعُ جَلَّ جَلَالُہٗ
ترکیب و طریقہ کار
شوہر کے ناروا سلوک سے نجات (عشاء کے بعد کا عام طریقہ): عشاء کی نماز کے بعد بیوی اپنی جائے نماز (مصلے) پر بیٹھ کر، اول و آخر گیارہ گیارہ (11-11) مرتبہ درود شریف پڑھے اور درمیان میں ایک تسبیح (100 دانے) 'بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الْوَاسِعُ جَلَّ جَلَالُہٗ' پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے شوہر کا غصہ ختم ہونے اور دل میں محبت پیدا ہونے کی دعا کرے۔
طلاق کا ہنگامی بحران یا شدید ضد و علیحدگی: اگر ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ شوہر طلاق دینے پر آمادہ ہو، یا بیوی کو علیحدہ کرنے کی ضد پیدا ہو جائے، یا بیوی کو گھر سے نکال دے اور انتقاماً گھر نہ بلائے، تو بیوی کو چاہیے کہ رات کو سونے سے پہلے باوضو مصلے پر بیٹھ کر اکتالیس (41) بار پوری سورۃ الاخلاص (قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ) پڑھے۔
بغیر کسی سے بات کیے بستر میں چلی جائے اور لیٹ کر آنکھیں بند کر کے اپنے شوہر کا تصور کرتے کرتے سو جائے۔
اس عمل کی مدت نوے (90) دن ہے۔
طلاق کا ہنگامی بحران یا شدید ضد و علیحدگی: اگر ایسے حالات پیدا ہو جائیں کہ شوہر طلاق دینے پر آمادہ ہو، یا بیوی کو علیحدہ کرنے کی ضد پیدا ہو جائے، یا بیوی کو گھر سے نکال دے اور انتقاماً گھر نہ بلائے، تو بیوی کو چاہیے کہ رات کو سونے سے پہلے باوضو مصلے پر بیٹھ کر اکتالیس (41) بار پوری سورۃ الاخلاص (قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ) پڑھے۔
بغیر کسی سے بات کیے بستر میں چلی جائے اور لیٹ کر آنکھیں بند کر کے اپنے شوہر کا تصور کرتے کرتے سو جائے۔
اس عمل کی مدت نوے (90) دن ہے۔
احتیاط و قواعد
سخت پابندی: اس عمل کی مدت 90 دن ہے۔ رات کے وقت سورۃ الاخلاص پڑھنے کے بعد کسی سے گفتگو کیے بغیر فوری بستر پر جا کر شوہر کے تصور کے ساتھ سو جانا لازمی شرط ہے۔