ٹیلی پیتھی کی عملی و روحانی توجیہ (روزنامہ حریت کراچی - جسم بطور لباس، روح کی لہریں، خیال اور فاصلاتی رابطہ)

Theoretical & Spiritual Exposition of Telepathy: The Body as Outer Garment, Electric Soul Waves & Distant Mental Attunement

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

سوال: تبسم رضا پشاور (روزنامہ حریت کراچی)—ٹیلی پیتھی کے بارے میں رئیس امروہوی نے جنگ میں کئی مضامین لکھے جن میں علمِ نفسیات کو بڑا دخل ہے۔ آپ بتائیں کہ ٹیلی پیتھی کو روحانیت میں کیا مقام حاصل ہے؟ دماغ سے اس کا تعلق کن بنیادوں پر قائم ہے؟ دو دماغ ایک نقطہ پر کس طرح مرکوز ہو جاتے ہیں اور سینکڑوں میل دور بیٹھے دو آدمی آپس میں کس طرح رابطہ قائم کر لیتے ہیں؟

وظیفہ مبارک و نقش

علمِ ٹیلی پیتھی کی حقیقت کا ادراک اور روح کی برقی لہروں کی مشق کے ذریعے ذہنی یکسوئی حاصل کرنا

ترکیب و طریقہ کار

۱۔ انسان کیا ہے؟ ہم جس گوشت پوست اور ہڈیوں کے مجسمے کو انسان سمجھتے ہیں، وہ اصل انسان نہیں بلکہ اصل انسان کی حفاظت کے لیے ایک 'لباس' ہے۔ جیسے کپڑے کو انسان کا جسم حرکت دیتا ہے اور اتار دینے پر کپڑا بے حس ہو جاتا ہے، اسی طرح موت کے بعد جسم بے حس لباس کی طرح رہ جاتا ہے اور اصل انسان اسے چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔
۲۔ اصل انسان 'روح' ہے: اصل انسان روح ہے جو تمام صلاحیتوں کی مالک اور امرِ ربی ہے۔ روح نور کا ایک جسم ہے جو ہر لمحہ متحرک رہتا ہے اور ہر آن ایک نیا لباس ایجاد کرتا ہے جس سے انسان بچپن سے جوانی اور بڑھاپے میں بدلتا ہے۔
۳۔ ٹیلی پیتھی کیا ہے؟ یہ تعلق قائم کرنے والی برقی رو (Electric Wave) ہی دراصل 'ٹیلی پیتھی' کہلاتی ہے جو ایک ذہن سے دوسرے ذہن تک خیالات منتقل کرتی ہے۔ جیسا کہ شاعر نے کہا: 'اِدھر خیال چلا اُدھر لیلیٰ چلی'۔
۴۔ فاصلاتی رابطہ کیسے ہوتا ہے؟ انسان اکثر نادانستہ طور پر اپنے خیالات دوسروں تک پہنچاتا رہتا ہے جو ماحول، والدین، اساتذہ اور کائنات کے مشترک رشتے سے ملتے ہیں۔ قدرت کا راز یہ ہے کہ کائنات کی ہر شے کا دوسری شے سے رشتہ ہے۔ جب کوئی اس برقی رو کی باقاعدہ مشق کرتا ہے تو یہ ایک مکمل علم بن جاتا ہے جس سے میلوں دور بیٹھے ذہنوں میں فکری رابطہ قائم ہو جاتا ہے۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital