مستقبل اور رشتے (اعلیٰ تعلیم یافتہ بہن اور غیر تعلیم یافتہ لڑکوں کے بارے میں ایثار)

Socio-Cultural Dilemma of Highly Educated Women & Matrimonial Realities

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

سوال: بشریٰ پروین ابہن—میری بہن اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے، رشتے آتے ہیں مگر تعلیمی معیار سے بہت کم ہوتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ بہن کی شادی کسی اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکے سے ہو جائے اور وہ جہیز کا مطالبہ بھی نہ کرے کیونکہ ہم غریب لوگ ہیں۔

وظیفہ مبارک و نقش

حقیقت پسندی اختیار کرنا اور کم تعلیم یافتہ مگر نیک سیرت لڑکے کو اپنانا

ترکیب و طریقہ کار

حقیقت پسندانہ تجزیہ: یہ بات عام مشاہدے میں ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکوں کی شادیاں کم تعلیم یافتہ اور ناخواندہ لڑکیوں سے باآسانی ہو جاتی ہیں اور وہ اسے برضا و رغبت نبھاتے ہیں۔
لڑکیوں اور ان کے سرپرستوں کو بھی یہ ایثار کرنا چاہیے کہ وہ رشتہ دیکھتے وقت محض ڈگریوں کی بجائے شرافت کو دیکھیں اور کم تعلیم یافتہ لڑکوں کو اپنا ساتھی بنانے میں کوئی عار محسوس نہ کریں۔
مستقبل قریب میں حالات ایسے آ جائیں گے کہ بالآخر یہ روش لڑکیوں اور ان کے خاندانوں کو اپنانا ہی پڑے گی۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital