آسیب کا شبہ یا شادی کی جبری ضد؟ (الوعشوری دورے، رنگین باغ کا تخیل اور مرضی کی شادی)

Alleged Demonic Possession vs Forced Marriage Conflict: Hysterical Neurosis & Consensual Matrimony

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

سوال: چٹاگانگ مشرقی پاکستان—میری ۲۲ سالہ لڑکی آسیب میں مبتلا ہے۔ ڈاکٹر، یونانی اور روحانی علاج کرا چکا ہوں، مولوی صاحب نے دم کیا تو لڑکی نے انہیں تھپڑ مار دیا۔ مولوی صاحب نے فلیتے میں مرچیں بھر کر ناک کے قریب جلائیں جس سے لڑکی چیخی چلائی۔ عاملین کہتے ہیں زبردست جن ہے۔ غصے میں چیزیں توڑتی ہے، پھر خاموش ہو کر کہتی ہے کہ 'وہ مجھے باغ میں لے گئے تھے، جہاں رنگین فوارے، قوس قزح کا پانی، چہچہاتے پرندے، پھلوں کے درخت اور بارہ دری میں ایک شخص کہتا ہے کہ ہم تم سے شادی کریں گے اور تم ہم پر راج کرو گی' اور بے ہوش ہو جاتی ہے۔

وظیفہ مبارک و نقش

لڑکی پر اپنی مرضی مسلط نہ کرنا اور اس کی مرضی و پسند کے مطابق فوری شادی کر دینا

ترکیب و طریقہ کار

حقیقت کا پردہ چاک کرنا: آپ کی لڑکی ہرگز کسی آسیب یا جن کا شکار نہیں ہے اور نہ ہی یہ لاعلاج مرض ہے۔ یہ مسئلہ دراصل شادی کا ہے۔ آپ شادی کے معاملے میں اپنی مرضی اس پر ٹھونسنا چاہتے ہیں اور یہی بات ان تمام کیفیات کا بنیادی سبب ہے۔
سماجی اصلاح: صرف اس لیے کہ لڑکا غریب ہے یا لڑکی کے مقابلے میں کم تعلیم یافتہ ہے، اسے نظر انداز کرنا یا اپنے ہی خاندان میں شادی کرنے پر ضد کرنا موجودہ دور میں بالکل غلط ہے۔
نفسیاتی و روحانی توجیہ: لڑکی اس دباؤ سے اتنی متاثر ہو چکی ہے کہ اس کا لاشعور شعور پر غالب آ گیا ہے۔ جب لاشعور غالب آتا ہے تو شعوری حواس معطل ہو جاتے ہیں، اس کے لاشعور کے تمام ارمان اور خیالی محبت الفاظ بن کر ظاہر ہوتے ہیں اور وہ اسے باغ اور شادی کی صورت میں دیکھتی ہے۔
حتمی حل: اگر فوراً سدباب نہ کیا گیا تو اس کا ذہنی توازن مستقل خراب ہو جائے گا۔ والدین پر لازم ہے کہ سنجیدگی سے غور کریں اور لڑکی کی شادی اس کی دلی مرضی کے مطابق کر کے اس فرض سے جلد از جلد سبکدوش ہوں۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital