نماز کے دوران بدبو اور فضلات کی ناگوار بو محسوس ہونا: صبح نہار منہ تازہ نمکین پانی کے غرارے کرنا

Prayer-Induced Phantosmia / Parosmia (Smelling Feces During Salah): Morning Fasting Saline Gargling Regimen

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

سوال: (سوال نمبر ۱۹۹، ص ۳۱۵-۳۱۶)—میری والدہ صاحبہ جب نماز پڑھتی ہیں تو انہیں فضلات کی بو آتی ہے، نماز کے علاوہ اوقات میں انہیں اس قسم کی بدبو نہیں آتی، آخر ایسا کیوں ہوتا ہے؟ جواب: یہ بیماری دماغ کے ان ریشوں سے متعلق ہے جو حیات کو جنم دیتے ہیں، یہ ریشے زیادہ حساس ہو گئے ہیں، اس کی وجوہات بہت سی ہوتی ہیں، آپ اس چکر میں نہ پڑیں صرف علاج کی طرف توجہ دیں۔ صبح اٹھ کے آپ کی والدہ صاحبہ تازہ پانی میں نمک ڈال کر غرارے کریں، غرارے نہار منہ کرنے چاہیئیں۔ خیال رکھیں کہ نمک کا پانی پیٹ میں نہ جائے، پانی کا اثر ریشوں پر براہِ راست ہوگا جو زیادہ حساس ہو گئے ہیں۔

وظیفہ مبارک و نقش

صبح نہار منہ تازہ پانی میں نمک ملا کر غرارے کرنا (نمکین پانی پیٹ میں نہ جانے پائے)

ترکیب و طریقہ کار

پانی کی تیاری: ایک گلاس تازہ نیم گرم پانی میں آدھا چمچ سادہ نمک ڈال کر اچھی طرح گھول لیں۔
غرارے کرنے کا وقت: روزانہ صبح سویرے بستر سے اٹھ کر نہار منہ (کلی اور برش سے پہلے) یہ غرارے کریں۔
طریقہ اور احتیاط: - سر پیچھے کر کے گلے اور تالو کی گہرائی تک نمکین پانی پہنچا کر اچھی طرح غرارے کریں۔ - خاص دھیان رکھیں کہ نمک والا پانی پیا نہ جائے اور پیٹ کے اندر بالکل نہ اترے۔
نتیجہ: دماغ کے وہ ریشے جو ضرورت سے زیادہ حساس ہو کر وہم اور بدبو پیدا کر رہے تھے، معمول پر آ جائیں گے اور نماز کے دوران بو آنا بالکل بند ہو جائے گی۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital