شوہر کی جیب سے پیسے نکالنے کی عادت کا نفسیاتی و ازدواجی حل: اخراجات کا حق، امانت کی رقم اور پرچی کا طریقہ

Taking Money from Husband's Pocket: Marital Financial Ethics, Trust Funds & Transparency Slip Protocol

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

سوال: (سوال نمبر ۱۸۳، ص ۳۰۸-۳۰۹)—میں اپنے شوہر کی جیب سے پیسے نکال لیتی ہوں، خواہ وہ کسی کی امانت ہی کیوں نہ ہو، بعد میں احساس ہوتا ہے کہ چوری کی ہے؟ جواب: ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے شوہر ضرورت کے مطابق آپ کو خرچ نہیں دیتے۔ جب ضرورت پریشان کرتی ہے تو آپ اس حرکت کی مرتکب ہو جاتی ہیں۔ قانونِ قدرت کے تحت شوہر اور بیوی ایک دوسرے کا لباس ہیں، میاں بیوی میں کسی قسم کی دوئی نہیں ہوتی۔ جس طرح آپ کی ہر چیز پر خاوند کا حق ہے اسی طرح خاوند کے روپے میں آپ کا حق ہے، البتہ امانت کی کوئی چیز اپنے مصرف میں لانا ہرگز جائز نہیں ہے۔ شوہر کو چاہیے کہ امانت کی رقم جیب میں نہ رکھے اور آپ یہ طریقہ اختیار کریں کہ جب بھی آپ خاوند کی جیب سے روپے نکالیں ایک پرچہ لکھ کر جیب میں ڈال دیں۔

وظیفہ مبارک و نقش

شوہر کی جیب سے رقم لیتے وقت جیب میں پرچی لکھ کر ڈالنا + امانت کی رقم خرچ کرنے سے مکمل پرہیز

ترکیب و طریقہ کار

شرعی و ازدواجی اصول: شوہر کے مال میں گھریلو ضروریات کے مطابق بیوی کا جائز حق ہے۔ شوہر کو چاہیے کہ خرچ فراخدلی سے دے۔
امانت کی رقم سے پرہیز: اگر شوہر کی جیب میں کسی اور کی امانت رکھی ہو تو اسے ہرگز نہ چھوئیں اور شوہر بھی امانت کی رقم جیب میں نہ رکھے۔
پرچی کا شفاف طریقہ: جب بھی مجبوری میں شوہر کی جیب سے رقم نکالیں، فوراً ایک کاغذ کی پرچی پر رقم اور ضرورت لکھ کر اس کی جیب میں ڈال دیں تاکہ چوری کا احساس ختم ہو اور مکمل شفافیت قائم رہے۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital