ذہنی انتشار (احساسِ کمتری، بولنے کی قوت کا سلب ہونا اور فوبیا کا علاج)
Mental Distraction, Severe Inferiority Complex, Social Inhibition, Speech Paralysis Phobia & Rising Sun Visualization
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: میں نے حال ہی میں بی ایس سی کا امتحان دیا ہے، کالج میں ذہین طالب علموں میں شمار ہوتا ہے لیکن امتحان میں پاس نہیں ہوتا۔ گھر میں ہر وقت پیسے کی کمی کا جھگڑا ہوتا رہتا ہے، جب پڑھنے لگتا ہوں یہی خیال میرے ذہن پر بھی سوار ہو جاتا ہے۔ پڑھائی چھوڑ کر کئی بار نوکری کرنے کی ٹھانی لیکن ناکام رہا، اب جی میں آتا ہے کہ اس دنیا کو چھوڑ دوں، میں شدید احساس کمتری کا شکار ہوں اور رہی سہی کسر اس طرح بھی پوری ہو گئی ہے کہ ہم صرف بھائی ہیں۔ اور جب کوئی لڑکی مجھ سے بات کرتی ہے مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کسی نے بولنے کی طاقت سلب کر لی ہو۔ دوستوں میں اٹھنے بیٹھنے کے باوجود کسی سے کھل کر بات نہیں کر سکتا۔ اندر ہی اندر جیسے کوئی چیز مجھے کھوکھلا کر رہی ہے، حکیم کی دوا کھاتا ہوں تو ٹھیک رہتا ہوں چھوڑ دوں تو پھر بری حالت ہوتی ہے، لیکن اس کا بوجھ اٹھانے کی مجھ میں طاقت نہیں ہے۔ عظیمی صاحب! میں نے تفصیل سے ہر وہ بات جو میں کسی سے نہیں کہتا آپ سے بیان کر دی ہے، مجھے ذہنی سکون چاہیے نہیں تو میں پاگل ہو جاؤں گا۔
وظیفہ مبارک و نقش
ترکیب و طریقہ کار
ورد کے بعد دونوں ہاتھوں پر دم کر کے ہاتھ تین بار اپنے چہرہ پر پھیریں اور حالات سازگار ہونے کی دعا مانگیں۔ اللہ تعالیٰ غیب سے مدد فرمائیں گے۔
صبح بہت سویرے بیدار ہو کر، سورج نکلنے سے ٹھیک ایک منٹ پہلے مغرب کی طرف منہ کر کے کھڑے ہو جائیں۔
آنکھیں بند کر کے اپنے ذہن میں نکلتے ہوئے سورج کا تصور جمائیں۔
نوٹ: یہ عمل کرنے سے قبل آپ کو پتا ہونا چاہیے کہ سورج کس وقت طلوع ہوتا ہے۔ نکلتے ہوئے سورج کا تصور دو یا تین منٹ کر لینا کافی ہے۔
مدت: اس عمل کی مدت کم سے کم چالیس (۴۰) دن اور زیادہ سے زیادہ نوے (۹۰) دن ہے۔