گہری دوستی ٹوٹنے کا صدمہ، اعصابی بے چینی اور احساسِ شکست: محبت کی لہر کا نفسیاتی تجزیہ، منشا شہود کی تبدیلی اور مصنوعی خول کا خاتمہ

Severe Grief from Broken Friendship, Emotional Agony & Nervous Breakdown: Psychological Analysis of Love, Shifting Focus to Constructive Purpose

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

سوال: (سوال نمبر ۱۱۵، ص ۲۷۵-۲۷۶)—مسئلہ کا نفسیاتی تجزیہ اور حل (روزنامہ جسارت، ۱۹۷۲ء): میرا ایک بہت ہی عزیز دوست مجھ سے ناراض ہو گیا ہے، میں نے ہر چند کوشش کی کہ دوستی بحال ہو جائے لیکن وہ کہتا ہے کہ میں اس کا دوست نہیں ہوں۔ میرے اعصاب پر اس کا شدید اثر ہوا ہے، بے چینی اور بے زاری میرے وجود کو گھن کی طرح کھا رہی ہے۔ مجھے بتائیے میرا عمل کیا ہونا چاہیے، ہم دونوں یونیورسٹی کے طالب علم رہے ہیں؟ جواب: آدمی کے اندر جذبات کی ایک رو ہوتی ہے، کبھی وہ تیز ہوتی ہے کبھی دھیمی۔ اسی رو کا نام شاعر اور تخیل پرست لوگ محبت رکھتے ہیں۔ یہاں ایک حقیقت کا پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے کہ یہ رو جہاں بھی ختم ہوتی ہے وہاں ایک منشا شہود بنا لیتی ہے۔ یہ منشا شہود چاندنی بھی ہو سکتی ہے، سبزہ بھی ہو سکتا ہے، کوئی آدمی یا کوئی علم و فن جس میں کبھی کبھی استغراق ہو جاتا ہے۔ اس منشا شہود کو بدلنا انسان کے اپنے اختیار میں ہے۔ دراصل یہ بہت بڑی غلطی ہے کہ انسان اپنے منشا شہود کے ہاتھوں میں کھلونا بن جائے۔ فی الواقع انسانی طبیعت اتنی کمزور نہیں ہوتی بلکہ طبیعت کو بے دست و پا کر کے ڈال دیا جاتا ہے۔ آپ جس وقت یہ عزم کر لیں کہ ہم نے منشا شہود بدل دیا، بس وہ بدل گیا۔ اس میں صرف ایک لمحہ صرف ہوتا ہے۔ کسی تعمیری مقصد کو منشا شہود بنائیں اور اس طرف لگ جائیں۔ صرف ایک سیکنڈ میں آپ یہ بناوٹی خول جو انسان کو مقید کر دیتا ہے اتار کر پھینک سکتے ہیں۔ ہمت کیجئے اور اس خول کو فوراً اتار کر پھینک دیجیئے۔

وظیفہ مبارک و نقش

نفسیاتی عزم اور ارادے کی قوت سے منشا شہود کو فوری تعمیری مقصد کی طرف موڑنا

ترکیب و طریقہ کار

حقیقت پسندی کا ادراک: یہ سمجھیں کہ آپ کا غم اس شخص کی وجہ سے نہیں بلکہ آپ کے ذہن کی اپنی جذباتی رو کے ایک نقطے پر منجمد ہو جانے کی وجہ سے ہے۔
کھلونا بننے کا انکار: اپنے جذبات اور وہم کے بنائے ہوئے بت کے سامنے خود کو بے بس اور لاچار تسلیم کرنا بند کریں۔
ایک سیکنڈ کا فوری عزم: اسی لمحے دل میں پکا فیصلہ کریں کہ میں نے اپنے جذبات کا مرکز (منشا شہود) بدل دیا ہے۔
تعمیری مقصد میں استغراق: اپنی علمی، پیشہ ورانہ یا فکری زندگی کا کوئی بڑا اور تعمیری ہدف مقرر کریں اور اپنی تمام ذہنی و جسمانی توانائیاں اس نئے مقصد میں لگا دیں۔
مصنوعی خول کو توڑنا: ماضی کی یادوں اور شکوؤں کے مصنوعی خول کو فورا اتار پھینکیں۔ ہمت پیدا کریں اور آزاد انسان کی طرح جئیں۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital