رمضان المبارک کے آخری عشرے کا روحانی پروگرام اور لیلۃ القدر کا مشاہدہ: انسانی حواس کی ۶۰ ہزار گنا رفتارِ پرواز، 'یا مریدی یا ودودی یا اللہ' اور درود خضری
Esoteric Ramadan Last Ten Days Program & Lailat-ul-Qadr Spiritual Senses: 60,000x Speed of Consciousness, 'Ya Mureedi Ya Wadoodi Ya Allah' & Jibreel (AS) Encounter
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: (سوال نمبر ۱۱۴، ص ۲۷۱-۲۷۵)—جس میں انسانی حواس کی رفتارِ پرواز ۶۰ ہزار گنا ہو جاتی ہے (روزنامہ جسارت، ۱۹۷۲ء): قرآن پاک ہمیں تفکر کی دعوت دیتا ہے کہ قرآن کا نزول رمضان کے مہینے میں ہی کیوں ہوا؟ رمضان میں انسانی تصورات و احساسات میں کیا تبدیلی رونما ہو جاتی ہے؟ جواب: کائنات میں ہر شے دو رخ پر قائم ہے: (۱) وہ حواس جو انسان کو قید و بند اور مادی کثافت میں رکھتے ہیں (حواسِ نہار)، (۲) وہ حواس جو زمان و مکان کی پابندیوں سے آزاد کر کے غیب اور ملاءِ اعلیٰ کا عرفان بخشتے ہیں (حواسِ لیل)۔ قرآن مجید نے شبِ قدر کو ہزار مہینوں سے افضل قرار دیا ہے، جس کا حسابی مفہوم یہ ہے کہ اس رات میں غیب کے حواس کی رفتار عام انسان کے مقابلے میں ۶۰ ہزار گنا تیز ہو جاتی ہے (۱۰۰۰ مہینے = ۳۰ ہزار دن اور ۳۰ ہزار راتیں)۔ جب انسانی ذہن اس رفتار پر پہنچتا ہے تو اس پر ملائکہ، ارواح اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کے انوار کا انکشاف ہو جاتا ہے۔ رمضان کے آخری عشرے کا عملی پروگرام: - ۲۰ رمضان کو ایک کھجور اور پانی سے افطار کریں، مزید کچھ نہ کھائیں۔ - ۲۱ رمضان کی سحری میں صرف ایک پیالی کم دودھ والی چائے پیئیں۔ - مغرب کے بعد درود خضری: 'صَلَّى اللّٰهُ تَعَالَى عَلٰى حَبِيبِهِ مُحَمَّدٍ وَّسَلَّمَ' کا مسلسل ورد رکھیں۔ - عشاء کے بعد کانوں میں روئی لگا لیں، تمام رات جاگیں، کلمہ تمجید اور نوافل پڑھیں۔ - رات ۲ بجے لکڑی کی چوکی پر کھڑے ہو کر وضو کریں اور چوکی پر قبلہ رخ برہنہ سر نماز کی طرح ہاتھ باندھ کر ایک تسبیح پڑھیں: 'يَا مُرِيدُ يَا وَدُودُ يَا اللّٰهُ'۔ - کمرے میں بالکل اندھیرا ہو۔ ۲۴ گھنٹے میں ڈھائی تین گھنٹے سے زیادہ سونا ممنوع ہے۔ ۲۷ویں شب مکمل شب بیداری کریں اور روئی میں کالی مرچ کا سفوف لپیٹ کر کانوں میں رکھیں۔ اس پروگرام سے حضرت جبرائیل علیہ السلام کی زیارت نصیب ہوتی ہے۔
وظیفہ مبارک و نقش
ترکیب و طریقہ کار
مغرب کے بعد کا ورد: - مغرب کے بعد درود خضری کثرت سے پڑھیں: 'صَلَّى اللّٰهُ تَعَالَى عَلٰى حَبِيبِهِ مُحَمَّدٍ وَّسَلَّمَ'۔ - عشاء کے بعد کانوں میں روئی لگا لیں اور تمام رات بیدار رہ کر کلمہ تمجید اور نوافل پڑھتے رہیں۔
رات ۲ بجے کی خاص تسبیح (چوکی پر کھڑے ہو کر): - رات ٹھیک دو (۲) بجے لکڑی کی چوکی یا پیٹری پر کھڑے ہو کر وضو کریں۔ - چوکی پر ہی قبلہ رخ، برہنہ سر (سر ننگا) کھڑے ہوں، نماز کی طرح ہاتھ باندھیں اور ۱۰۰ مرتبہ پڑھیں: 'يَا مُرِيدُ يَا وَدُودُ يَا اللّٰهُ'۔ - شرط: جس کمرے میں یہ عمل کریں وہاں اور جہاں رات گزاریں وہاں سوائے شدید ضرورت کے مکمل گھپ اندھیرا ہونا چاہیے۔
نیند کی حد اور سحری کے اوقات: - ۲۲ سے ۲۵ رمضان تک سحری و فجر کے درمیان یا عشاء و تراویح کے بعد صرف ڈیڑھ سے دو گھنٹے سوئیں۔ - ۲۴ گھنٹے کے شب و روز میں کل نیند ڈھائی سے تین (۲.۵ تا ۳) گھنٹے سے کسی صورت زیادہ نہ ہو۔
۲۷ویں شب (شبِ قدر کا خصوصی عمل): - پسی ہوئی کالی مرچ کا سفوف بنا کر ہلکی بھیگی ہوئی روئی میں لپیٹیں اور دونوں کانوں میں رکھ لیں۔ - پوری رات مکمل شب بیداری کریں، کلمہ تمجید، نوافل اور درود خضری کا ورد رکھیں۔
ثمرہ: ذہن کی رفتار ۶۰ ہزار گنا پرواز کر کے فرشتوں اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کے انوار سے ہمکنار ہو جاتی ہے۔