پسند کی شادی میں ۲ سال سے مسلسل رکاوٹیں: قانونِ قدرت کا احترام اور معاملہ والدین کے سپرد کرنا
2-Year Chronic Betrothal Stagnation: Submission to Parental Wisdom & Natural Law
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: (سوال نمبر ۱۰۱، ص ۲۶۵)—شادی کا معاملہ والدین پر چھوڑ دیجئے (روزنامہ جسارت، ۱۹۷۱ء): میں اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔ دو سال ہو گئے ہیں، کوئی نہ کوئی ایسی بات ہو جاتی ہے کہ میری کوشش پایۂ تکمیل کو پہنچتے پہنچتے ناکام ہو جاتی ہے۔ پیچیدگیاں روز بروز بڑھ رہی ہیں۔ جواب: اللہ تعالیٰ عالم الغیب اور قادرِ مطلق ہیں۔ جب کوئی چیز بندہ کے لئے تکلیف دہ اور نامناسب ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسے ناپسند کرتے ہیں تو قانونِ قدرت بندہ کے حق میں تعاون نہیں کرتا۔ یہی صورت آپ کے ساتھ بھی درپیش ہے۔ اپنی شادی کا معاملہ اپنے والدین پر چھوڑ دیجئے، بے جا ضد نہ کیجئے۔
وظیفہ مبارک و نقش
بے جا ضد کا ترک اور شادی کا فیصلہ والدین اور مشیتِ الٰہی کے سپرد کرنا
ترکیب و طریقہ کار
حقیقت کا ادراک: یہ سمجھیں کہ جس رشتے میں مسلسل دو سال سے ہر کوشش کے باوجود ناکامی ہو رہی ہے، وہ قانونِ قدرت اور غیبی حکمت کے تحت آپ کے مستقبل کے لیے شدید نقصان دہ اور تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔
بے جا ضد کی بندش: اپنی خود ساختہ پسند اور غیر فطری اصرار کو فوراً ترک کر دیں۔
والدین پر اعتماد: شادی کا پورا معاملہ اپنے والدین اور بزرگوں کے سپرد کر دیں اور ان کی رضامندی میں اپنی خوشی تلاش کریں۔
نتیجہ: جب انسان قدرت کی حکمت کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے حق میں بہترین اور بابرکت اسباب پیدا فرما دیتے ہیں۔
بے جا ضد کی بندش: اپنی خود ساختہ پسند اور غیر فطری اصرار کو فوراً ترک کر دیں۔
والدین پر اعتماد: شادی کا پورا معاملہ اپنے والدین اور بزرگوں کے سپرد کر دیں اور ان کی رضامندی میں اپنی خوشی تلاش کریں۔
نتیجہ: جب انسان قدرت کی حکمت کے سامنے سر تسلیم خم کر دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے حق میں بہترین اور بابرکت اسباب پیدا فرما دیتے ہیں۔