فہم و فراست کا چشمہ اور یادداشت کی بحالی: رات ۴ بجے پیڑھی پر باوضو عمل، یا اللہ اور مراقبۂ نور
The Fountain of Intellect & Enhanced Cognition: 4 AM Wooden Stool Protocol, Divine Name 'Yā Allāh' & Photonic Meditation
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: (سوال نمبر ۵۲، ص ۲۴۲)—فہم و فراست کا چشمہ: میں بی اے کا طالب علم ہوں۔ مزید اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی آرزو ہے اور محسوس یہ کرتا ہوں کہ مجھ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ اخبار جسارت میں آپ کا جواب 'اس عمل سے فہم و فراست کے چشمے ابل پڑیں گے' پڑھا۔ براہِ کرم وظیفہ اور عمل دوبارہ شائع کر دیں تاکہ میری طرح اور بندگانِ خدا مستفیض ہو سکیں اور مجھے اجازت عطا فرمائیں۔ جواب: چار بجے رات کو اٹھ جائیے۔ جو بھی طریقہ اختیار کریں، گھڑی میں الارم لگا دیجئے یا گھر میں کسی سے کہہ دیجئے کہ وہ آپ کو اٹھا دیں۔ اندھیرے میں پیڑھی کے اوپر بیٹھ کر وضو کریں۔ وضو کر کے اس پیڑھی کے اوپر کھڑے ہو جائیں۔ وضو کرتے وقت اور کھڑے ہونے میں منہ قبلہ کی طرف رہے گا۔ نماز کی طرح ہاتھ باندھ لیں۔ آنکھیں بند کر کے ایک مرتبہ 'یا اللہ' کہیں۔ گیارہ بار دعا مانگیں 'اے اللہ میرا حافظہ ٹھیک کر دے، میرے اندر فہم و فراست پیدا کر دے'۔ پھر زبان سے 'یا اللہ' کہیں اور گیارہ دفعہ دل ہی دل میں حافظہ کی بحالی اور فہم و فراست کے اضافہ کی دعا مانگیں۔ اسی طرح گیارہ مرتبہ 'یا اللہ' اور ہر دفعہ دعا کر کے پیڑھی سے الٹے پیروں اتر آئیں۔ دو نفل نمازِ تہجد ادا کریں۔ مصلے پر بیٹھے بیٹھے آنکھیں بند کر کے تصور کریں فہم و فراست اور یادداشت نور کی لہروں کے ذریعے آپ کے اندر جذب ہو رہی ہے، مراقبے کے تصور کا وقت پندرہ منٹ ہونا چاہیے، دیر ہو جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اس تمام عمل سے فارغ ہونے کے بعد جی چاہے تو کورس کی کتابیں پڑھیں ورنہ سو جائیں، زیادہ سے زیادہ ایک مہینے میں فہم و فراست کا چشمہ ابل پڑے گا۔ نوٹ: کوئی صاحب یہ عمل کرنا چاہیں تو جوابی لفافہ یا جوابی پوسٹ کارڈ لکھ کر پہلے اجازت حاصل کر لیں۔
وظیفہ مبارک و نقش
ترکیب و طریقہ کار
تاریکی میں پیڑھی پر وضو: کمرے میں مکمل اندھیرا رکھیں، لکڑی کی ایک پیڑھی (چھوٹا پٹڑا یا چوکی) پر قبلہ رخ بیٹھ کر تسلی سے وضو کریں۔
پیڑھی پر قیام: وضو مکمل ہوتے ہی اسی پیڑھی پر قبلہ رخ سیدھے کھڑے ہو جائیں اور نماز کی طرح سینے پر ہاتھ باندھ لیں۔
تلاوت و دعا کی ترتیب: - آنکھیں بند کر کے زبان سے ایک بار کہیں: 'یا اللہ'۔ - دل ہی دل میں گیارہ (۱۱) بار گڑگڑا کر دعا مانگیں: 'اے اللہ! میرا حافظہ ٹھیک کر دے، میرے اندر فہم و فراست پیدا کر دے'۔ - پھر زبان سے کہیں 'یا اللہ' اور ۱۱ بار دل میں دعا مانگیں۔ - اسی طرح کل گیارہ (۱۱) بار 'یا اللہ' کہیں اور ہر بار گیارہ دفعہ دل میں دعا مانگیں۔
الٹے قدم اترنا: عمل مکمل ہونے پر پیڑھی سے سامنے کی طرف اترنے کے بجائے 'الٹے پیروں' پیچھے اتریں۔
نمازِ تہجد: جائے نماز پر دو (۲) رکعت نفل نمازِ تہجد ادا کریں۔
مراقبۂ نور (۱۵ منٹ): جائے نماز پر بیٹھے بیٹھے آنکھیں بند کر کے تصور کریں کہ فہم و فراست، ذہانت اور یادداشت 'نور کی روشن لہروں' کی شکل میں اوپر سے آ کر آپ کے دماغ اور سینے میں جذب ہو رہی ہیں۔ یہ تصور ۱۵ منٹ تک قائم رکھیں۔
مدت و اجازت: ایک مہینے میں فہم و فراست کا چشمہ ابل پڑے گا۔ نوٹ: یہ عمل خصوصی ہے، اس کے لیے صاحبِ اجازت ہونا ضروری ہے۔