علمی مقالہ: بابر کی موت اور ہمایوں کی زندگی: قانونِ زماں و مکاں (Time & Space) اور غیب و شہود کا راز

Metaphysics of Babur's Life Transference to Humayun: Time & Space Mechanics and the Ghaib-Shahood Continuum

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

سوال: (روزنامہ جسارت، ۱۳ اکتوبر ۱۹۷۱ء، سوال نمبر ۲۱، ص ۲۲۷)—بابر کی موت کیوں؟ اور ہمایوں کی زندگی کس طرح؟: اس تاریخی واقعہ کی کیا توجیہ ہو سکتی ہے کہ جب ہمایوں بیمار ہوا تو بابر نے ہمایوں کے گرد طواف کر کے یہ دعا مانگی کہ اے اللہ میری زندگی میرے بیٹے کو دے دے، نتیجے میں شہنشاہ بابر اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے اور ہمایوں صحت یاب ہو گیا؟ جواب (بصیرت افروز فلسفیانہ و کائناتی مقالہ): قانونِ قدرت کی پہلی دفعہ (شق) یہ ہے کہ ہر شہود کے پسِ پردہ غیب ہوتا ہے، غیب سے ہی شہود یا مظہر نمودار ہوتا ہے۔ مثلاً ہمارے سامنے ایک درخت ہے، اس درخت کے تمام ظاہری پہلو ہماری عقل کے دائرے میں شامل ہیں ہم ان کا تجزیہ کر سکتے ہیں لیکن اس کا داخلی پسِ منظر وہ ہے جس کے بارے میں ہماری فکر اور تجربات کے نتائج صفر کے برابر ہیں۔ اگر موجودہ سائنس کی رو سے مادی شے کی تقسیم الیکٹران اور پروٹان تک کر دیں پھر بھی یہ تشنگی باقی رہتی ہے کہ پروٹان اور الیکٹران کی اصل کیا ہے، شروعات سے پہلے اس کی کیا نوعیت تھی۔ یہ سارے پہلو غیب ہیں۔ جہاں تک انسان کی رسائی ہو سکتی ہے اس کے بعد پھر غیب آ جاتا ہے۔ اگر کسی ایک لمحے کے لیے بھی انسانی ذہن مکاں (Space) کی گرفت سے آزاد ہو کر زماں (Time) کی حد میں داخل ہو جاتا ہے تو وہ حقیقت کو چھو لیتا ہے، اور حقیقت کو چھو لینے کے معنی یہ ہیں کہ جیسے ہی اس کا ذہن زماں سے مکاں کی طرف واپس آتا ہے تو وہ شے عملی دنیا میں مظہر بن جاتی ہے—یا تو فوری طور پر یا کچھ وقفے کے بعد۔ قانون کی دفعہ یہ ہوئی کہ ہر شعور غیب ہے اور غیب زماں کی گہرائی میں ہوتا ہے۔ ذہن مکاں (Space) سے نکل کر اگر اسے چھو لے تو اس وقت جو کچھ ذہن میں ہوگا وہ مکاں میں آ کر مظہر بن جائے گا۔ چنانچہ بابر کے ذہن میں جیسے ہی یہ بات آئی کہ میری جگہ ہمایوں کو زندہ رہنا چاہئے تو اس جذبے کی گہرائی اتنی تھی کہ یہ مکاں کی حد سے نکل کر غیب یا زماں (Time) کے اندر پہنچ گیا۔ جیسے ہی واپسی ہوئی مظہر بن گیا اور جذبہ کی گہرائی بہت زیادہ تھی اس لیے مظہر فوراً بن گیا اور بابر کی زندگی ہمایوں میں منتقل ہو گئی۔

وظیفہ مبارک و نقش

علمی و کائناتی مقالہ: زماں و مکاں (Space & Time) کا قانون، غیب سے شہود کا ظہور اور بابر و ہمایوں کی روحانی حقیقت

ترکیب و طریقہ کار

بنیادی کائناتی قانون: ہر ظاہری شے (شہود) کی اصل حقیقت غیب کے پردے میں پوشیدہ ہے۔ انسان جو کچھ دیکھتا ہے وہ صرف مادی وجود (Space) ہے، جبکہ اس کی اصل روح اور حقیقت زماں (Time) میں ہے۔
مکاں سے زماں میں داخلہ: جب انسان کا جذبہ، یقین یا دعا انتہائی شدت اور کامل یکسوئی کی انتہا کو پہنچ جاتی ہے، تو اس کا ذہن مکاں (تین جہتی دنیا) کی قید سے نکل کر زماں (غیب کی لامحدود گہرائی) میں داخل ہو کر حقیقتِ مطلقہ کو چھو لیتا ہے۔
مظہر بننے کا عمل: زماں میں جو ارادہ بھی چھو لیا جائے، وہ ذہن کے واپس مادی دنیا میں لوٹتے ہی ٹھوس مادی حقیقت (Physical Reality) بن کر نمودار ہو جاتا ہے۔
واقعہ کی توجیہ: شہنشاہ بابر کا اپنے بیمار بیٹے کے لیے جذبہ اس قدر گہرا اور کامل تھا کہ ان کی روح نے فوراً زمان کی سرحد میں داخل ہو کر اپنی حیات کو ہمایوں کے قالب میں منتقل کر دیا۔ جذبے کی انتہائی گہرائی کے باعث یہ دعا بغیر کسی تاخیر کے فوری طور پر ظہور پذیر ہو گئی۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital