روحانی مقالہ: کیا زیادہ وظائف سے نقصان ہوتا ہے؟ فرائض، حقوق العباد اور وظائف کی کثرت کا شرعی و نفسیاتی جائزہ

Theology of Chanted Formulas vs. Practical Action: Excessive Wazaif, Somatic Desiccation & Rights of Creation

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

سوال: (روزنامہ جسارت، ۳ جون ۱۹۷۱ء، سوال نمبر ۱۹، ص ۲۲۴-۲۲۶)—روحانی ڈاک پر ایک قاری کا اعتراض: آپ نے اکثر لوگوں کو وظائف کی کثرت سے منع فرمایا ہے جبکہ اللہ کا حکم ہے کہ کثرت سے میرا ذکر کرو اور بزرگوں کا سارا وقت ذکر میں گزرتا تھا، آپ وظائف سے روک کر حوصلہ شکنی کیوں کرتے ہیں؟ جواب (فقید المثال اصولی و شرعی مقالہ): قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے دین کو تمام فرائض کی ادائیگی پر محیط کر دیا ہے۔ ان فرائض میں سب سے پہلی چیز شرائطِ ایمان ہے یعنی اللہ پر بھروسہ اور بھروسہ نبی ﷺ کے فرمان کے مطابق ہو جو پوری مخلوق کے حقوق کی ادائیگی ہے (سورہ بقرہ، رکوع ۶)۔ صرف ورد و وظائف میں لگ جانا رہبانیت ہے جو اسلام میں قطعاً ممنوع اور حضور ﷺ کی سنت کے بالکل منافی ہے۔ حقوق کی ادائیگی کے لیے دنیاوی جدوجہد کرنا شعائرِ اسلامی میں شرطِ ثانی ہے۔ درود و وظائف شرطِ ثانی نہیں ہیں۔ جو وقت وظائف میں لگایا جاتا ہے وہ قرآن پاک کی تلاوت اور تفکر میں صرف ہونا چاہئے۔ وظائف ہی کو کامیابی کا ذریعہ بنایا جائے تو وہ اللہ کی خوشنودی کے بجائے کاروباری حیثیت اختیار کر جاتا ہے اور یہ طرز اللہ اور حضور ﷺ کی شان میں گستاخی ہے۔ زیادہ وظائف پڑھنے سے انسان کے اندر خشکی آ جاتی ہے، دماغ چڑچڑا ہو جاتا ہے، راتوں کو نیند کی کمی اور مسلسل ایک ہی نشست پر بیٹھے رہنے سے مستقل ہاضمہ کی خرابی اور دماغ کی بے آرامی ہو جاتی ہے۔ ایسے بہت سے لوگ دیکھنے میں آئے ہیں جنہوں نے وظیفے پڑھ کر شکوک و شبہات کے عمیق دریا میں ڈوب کر اپنی آخرت بھی مشکوک کر لی ہے۔ نماز روح کی خوراک ہے لیکن اس کے بعد کا فریضہ جدوجہد ہے، صرف کام چور لوگ جدوجہد سے بچنے کے لیے یہ کام کرتے ہیں۔ عرفان کا مقصد صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ناموں کا وصف جانے بغیر بے خبری کے عالم میں اپنا نام لینے کی اللہ تعالیٰ اجازت نہیں دیتے، اگر اس کی خلاف ورزی کی جائے تو اللہ کی ناراضگی کا باعث بن جاتا ہے۔

وظیفہ مبارک و نقش

علمی و اصولی ہدایت: فرائض کی پابندی، دنیاوی محنت و جدوجہد، حقوق العباد کی ترجیح اور بلا اجازت کثرتِ وظائف سے مکمل اجتناب

ترکیب و طریقہ کار

اسلامی اصول: دینِ اسلام محنت، عمل اور مخلوق کے حقوق ادا کرنے کا نام ہے۔ صرف مصلے پر بیٹھ کر وظیفے پڑھتے رہنا اور دنیاوی جدوجہد نہ کرنا 'رہبانیت' ہے جس سے اسلام نے سختی سے منع فرمایا ہے۔
وظائف کے طبی و دماغی نقصانات: بلا اجازت بے تحاشا وظیفے پڑھنے سے دماغ کے اندر شدید خشکی پیدا ہوتی ہے، ہاضمہ تباہ ہو جاتا ہے، نیند اڑ جاتی ہے اور انسان چڑچڑا اور غصیلا ہو کر اپنے اہل و عیال کے حقوق برباد کر بیٹھتا ہے۔
کاروباری ذہنیت کی نفی: اللہ کے مقدس ناموں کو دنیاوی لالچ اور پیسوں کے حصول کا ذریعہ بنا لینا گستاخی ہے۔ عبادت اور ذکر کا واحد مقصد صرف 'رضائے الٰہی' ہونا چاہئے۔
عملی ہدایت: روزانہ صرف پانچ وقت کی فرض نماز پابندی سے پڑھیں، فجر کے بعد قرآن پاک کی تلاوت با معنی و تفکر کے ساتھ کریں اور باقی وقت اپنی حلال روزی کمانے اور اہل و عیال کی خدمت میں لگائیں۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital