خود سے باتیں کرنا، انٹرویو کے وقت آواز کا گلے میں اٹکنا اور نسیان: دودھ میں دو بار ابلے چھوہارے کا دماغی علاج
Compulsive Internal Soliloquy, Acute Speech Arrest in Interviews & Amnesia: Twice-Boiled Chhuharay in Milk
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: (سوال نمبر ۲۰۹ امیج ۶۷، ص ۲۲۰)—میں خود سے باتیں کرتا ہوں: میں بچپن سے ہی دل ہی دل میں باتیں کرنے کا عادی ہوں، چلتے پھرتے خود سے سوال کرتا ہوں اور خود ہی جواب دے دیتا ہوں۔ بسیار ترین کوششوں کے بعد بھی اس عادت کو ترک نہیں کر سکا ہوں، اس کیفیت کے مسلط رہنے کی وجہ سے حافظہ جواب دے گیا ہے۔ ایک دوسری مصیبت یہ ہے کہ خود ہی خود تو خوب باتیں کرتا ہوں لیکن کسی دوسرے آدمی سے بات نہیں کر سکتا، آواز حلق میں رک جاتی ہے۔ کئی مرتبہ ملازمت ملتے ملتے رہ گئی کیونکہ میں انٹرویو کے وقت جواب ہی نہیں دے سکا۔ جواب: اس شکایت کا تعلق براہِ راست دماغ سے ہے اور اس کا علاج یہ ہے کہ آپ چھوہارے کھائیں، ترکیب یہ ہے: دو چھوہارے پانی میں دھو کر ایک پاؤ دودھ میں پکائیں، ایک یا دو جوش کے بعد پتیلی اتار کر رکھ دیں۔ صبح پھر ایک بار جوش دیں پھر ٹھنڈا کر کے چھوہارے کھا لیں اور دودھ پی لیں۔ چند ہفتے میں انشاء اللہ خود سے باتیں کرنے کی عادت اور دوسری شکایات ختم ہو جائیں گی۔
وظیفہ مبارک و نقش
ترکیب و طریقہ کار
تیاری کا نسخہ: دو عدد اچھے چھوہارے لیں اور انہیں صاف پانی سے دھو لیں۔ ایک پاؤ دودھ میں یہ چھوہارے ڈال کر چولہے پر پکائیں، جب ایک یا دو جوش آ جائیں تو پتیلی چولہے سے اتار کر رات بھر کے لیے ڈھانپ کر رکھ دیں۔
صبح کا عمل: صبح نہار منہ اس پتیلی کو دوبارہ چولہے پر رکھیں اور ایک جوش دیں۔ جب ہلکا ٹھنڈا ہو جائے تو چھوہارے چبا کر کھا لیں اور دودھ پی لیں۔
مدت: یہ عمل لگاتار چند ہفتے جاری رکھیں۔ دماغ کے اندر یکسوئی پیدا ہوگی، خود سے باتیں کرنے کی عادت چھوٹ جائے گی، حافظہ تیز ہوگا اور انٹرویو یا اجنبیوں کے سامنے زبان رکنے کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے دور ہو جائے گا۔