رشتہ طے ہونے کے بعد غیر متوقع رکاوٹیں اور ۳۱ سالہ عمر: کائناتی قانونِ ایثار اور مخلوقِ خدا کے کام آنا
Pre-Nuptial Obstacles & Late Marriage at 31: Universal Law of Altruism (Eesār) to Unlock Unseen Divine Aid
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: (سوال نمبر ۱۹۸ امیج ۶۶، ص ۲۱۰)—ایسے لوگوں کو غیب سے مدد ہوتی ہے: میں ایک معمولی شکل و صورت کی لڑکی ہوں، ۳۱ سال عمر ہو گئی ہے، ابا بوڑھے اور امی مستقل بیمار رہتی ہیں۔ ان دونوں کے ذہن پر میری شادی کا بوجھ ہے مگر بغیر کسی وجہ کے رشتہ ختم ہو جاتا ہے۔ خدا را بتائیے کون سی رکاوٹ ہے جو سب کچھ طے ہو جانے کے بعد میرے راستے کی دیوار بن جاتی ہے؟ آپ کے بتائے ہوئے وظیفوں سے کئی بہنوں کی شادی ہو چکی ہے۔ جواب (عظیم کائناتی و صوفیانہ قانون): جن افراد میں ایثار ہوتا ہے اور جو لوگ اللہ کی مخلوق کے کام آتے ہیں ایسے لوگوں کو غیب سے مدد ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جن لوگوں میں ایثار نہیں ہوتا اور ان کے سامنے صرف اپنی ذات رہتی ہے، وہ قدرت کے خصوصی تعاون سے محروم رہتے ہیں۔ بیان کردہ اس قانون میں آپ کے مسائل کا حل ہے۔
وظیفہ مبارک و نقش
ترکیب و طریقہ کار
ایثار کا راستہ: اپنی تمام تر توجہ اپنی شادی اور ذاتی محرومی پر مرکوز رکھنے کے بجائے اپنے محلے، رشتہ داروں اور غریبوں کے دکھ درد میں شریک ہوں۔
مخلوقِ خدا کی خدمت: کمزوروں، بیماروں اور ضرورت مندوں کے کام آئیں اور ان کے لیے اپنی صلاحیتوں سے آسانی پیدا کریں۔
غیبی امداد کا نزول: جب انسان اللہ کے بندوں پر بے لوث ایثار کرتا ہے تو عرشِ الٰہی سے اس کے حق میں فرشتے دعائیں کرتے ہیں اور تمام پوشیدہ رکاوٹیں پلک جھپکتے میں دور ہو جاتی ہیں۔