علمی و باطنی مقالہ: کیا لڑکی لڑکا بن سکتی ہے؟ جسمانی بال، نفسِ واحدہ اور ظاہر و باطن کے دو رُخ کا قانون
Ontology of Gender & Biological Transmutation: Hirsutism, Dual Aspects (Zahir & Batin) & Marital Phobia
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: (سوال نمبر ۱۸۹ امیج ۶۳، ص ۲۰۲-۲۰۴)—سوال کیا میں لڑکا بن سکتی ہوں؟: ش گ ش، شہداد کوٹ: میرا سینہ مضبوط، ہڈی چوڑی اور ہاتھ پیر مردوں جیسے ہیں۔ جب سے ہوش سنبھالا ہے دل میں خواہش کروٹ لیتی ہے کہ میں لڑکا بن جاؤں۔ ۱۸ سال کی عمر میں بوڑھی لگتی ہوں، پورا چہرہ اور جسم بالوں سے بھرا ہوا ہے، آواز میں بھاری پن ہے۔ کیا میں لڑکا بن سکتی ہوں؟ کیا مجھے کبھی اچھا شوہر مل جائے گا جبکہ میں بہت بدصورت اور بھدے جسم کی لڑکی ہوں؟ مجھے بتائیے کہ میرے اندر لڑکا بننے کی خواہش کیوں ہے اور جسمانی ساخت لڑکوں کی طرح کیوں ہے؟ مجھے ایک کرامت والی عورت نے ایک ہزار روپے ٹھگ لئے۔ جواب (فقید المثال فلسفیانہ و علمی مقالہ): قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 'وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ' (ہم نے ہر شے کو پیدا کیا جوڑے دوہرے)۔ قانون یہ ہے کہ ہر چیز دو رخ پر قائم ہے۔ مرد کے دو رخ، عورت کے دو رخ۔ ایک رخ ظاہر ہے اور دوسرا رخ باطن۔ ظاہر رخ اگر عورت ہے تو باطن رخ مرد اور ظاہر رخ مرد ہے تو باطن رخ عورت۔ روح مذکر اور مؤنث نہیں ہوتی، روح جن تقاضوں کے ساتھ جسمانی پرت بدلتی ہے وہ بھی بنیادی طور پر دو ہیں: ایک مرد، دوسری عورت۔ جو تقاضہ گہرا ہوتا ہے وہی جسمانی لحاظ سے شکمِ مادر میں وجود پذیر ہو جاتا ہے۔ مرد کے اندر چھپا ہوا رخ عورت اور عورت کے اندر چھپا ہوا رخ مرد ہے۔ جنسی کشش کا عمل بھی اسی فارمولے پر قائم ہے۔ مرد کے اندر چھپا ہوا رخِ عورت چونکہ بظاہر نا مکمل ہے اس لئے وہ مکمل رخِ مرد سے وابستہ اور پیوستہ ہونا چاہتا ہے، اور عورت کے اندر چھپا ہوا رخِ مرد بظاہر نا مکمل ہے اس لئے وہ بھی اپنی تکمیل کے لئے عورت کے اندر جذب ہونے کے لئے بے قرار رہتا ہے۔ پیدائش کے بعد باطنی رخ اگر ظاہری رخ سے زیادہ طاقتور ہے تو وہی تقاضے گہرے ہو جاتے ہیں جو باطنی رخ میں کارفرما ہیں۔ اگر باطنی رخ میں بہت زیادہ گہرائی پیدا ہو جائے تو جنس کی تبدیلی عمل میں آ جاتی ہے۔ ظاہر اور باطن رخ اعتدال میں رہیں اور کسی ایک رخ میں بہت زیادہ گہرائی نہ ہو تو انسان مرد رہتا ہے نہ عورت بلکہ تیسری مخلوق بن جاتا ہے۔ جہاں تک آپ کا تعلق ہے آپ کے اندر باطنی رخ (مرد) اتنا گہرا نہیں ہے کہ آپ کی جنس تبدیل ہو جائے، اگر ایسا ہوتا تو آپ کے ذہن میں یہ بات نہ آتی کہ مجھے اچھا شوہر ملنا چاہئے۔ آپ کے جسم پر بال ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ عورتوں کے مخصوص ماہانہ نظام میں ضرورت سے زیادہ کمی ہے۔ ڈیل ڈول کے اعتبار سے خود کو لڑکا محسوس کرنے کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی ہڈی چوڑی ہے؛ اسی طرح بہت سے مرد اکہری ہڈی کے ہوتے ہیں اور ان کا جسم نازک ہوتا ہے لیکن وہ عورت نہیں ہوتے۔ آپ کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ آپ کو کوئی مرد قبول نہیں کرے گا لہٰذا اس افتاد سے بچنے کا طریقہ آپ نے یہ سوچا کہ آپ لڑکی سے لڑکا بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انسان نا قابلِ تذکرہ شے تھا پس ہم نے اس کے اندر اپنی روح ڈال دی اور یہ دیکھتا، سنتا اور محسوس کرتا آدمی بن گیا۔ روح امرِ رب ہے، اور امرِ رب یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے 'ہو' اور وہ ہو جاتی ہے۔
وظیفہ مبارک و نقش
ترکیب و طریقہ کار
خواہش کی نفسیاتی اصل: سائلہ کے اندر لڑکا بننے کی خواہش حقیقی صنفی تبدیلی نہیں بلکہ اس گہرے خوف کا دفاعی ردعمل ہے کہ مرد اسے بدصورت سمجھ کر مسترد کر دیں گے۔ چونکہ وہ ایک اچھے شوہر کی متمنی ہے، اس لیے وہ پیدائشی طور پر مکمل عورت ہے۔
جسمانی بالوں کا سبب: چہرے اور جسم پر بالوں کا زیادہ ہونا اور آواز کا بھاری پن زنانہ ماہانہ نظام (Menstrual/Hormonal Cycle) میں شدید خرابی و کمی کا نتیجہ ہے۔
طبی مشورہ: کسی قابل لیڈی ڈاکٹر یا گائناکالوجسٹ سے مل کر اپنے ہارمونز اور مخصوص ماہانہ نظام کی درستگی کا علاج کروائیں، تاکہ جسمانی بالوں کا مسئلہ حل ہو سکے۔