نماز میں اللہ اور رسول کے بارے میں برے خیالات و وساوس: چہرہ تولیے سے خشک نہ کرنا اور پاؤں کا مسح
Blasphemous Doubts & Intrusive Waswas in Salat: Avoiding Towel Drying & Foot Masah Protocol
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: (سوال نمبر ۱۸۷ امیج ۶۲، ص ۲۰۱)—مذہب کے بارے میں وسواس میں مبتلا ہوں: فیروزہ، کراچی: جب میں نماز پڑھتی ہوں تو ذہن میں برے برے خیالات آتے ہیں۔ برے خیالات سے مراد یہ ہے کہ اللہ اور رسول اور مذہب کے بارے میں شک اور وسواس میں مبتلا ہو جاتی ہوں۔ جواب: دو کام کیجئے۔ ایک یہ کہ وضو کرنے کے بعد ہاتھ اور چہرہ کسی کپڑے اور تولیے سے خشک نہ کریں۔ دوسرا یہ کہ پیروں کو دھوئیں نہیں بلکہ پیروں کا مسح کریں۔ مسئلہ حل ہو جائے گا۔
وظیفہ مبارک و نقش
وضو کے بعد چہرہ و ہاتھ خشک نہ کرنا اور پاؤں پر مسح کرنا (وساوس و شکوک کا خاتمہ)
ترکیب و طریقہ کار
پہلی ہدایت: وضو مکمل کرنے کے بعد اپنے چہرے اور ہاتھوں کو کسی بھی تولیے، رومال یا کپڑے سے ہرگز خشک نہ کریں، بلکہ وضو کے پانی کو خود بخود ہوا سے سوکھنے دیں۔
دوسری ہدایت: وضو کے دوران پاؤں کو پانی سے دھونے کے بجائے گیلے ہاتھوں سے پاؤں کے اوپر مسح کریں۔
اثرات: یہ طریقہ اعصاب کے برقی ہیجان کو ٹھنڈا کرتا ہے اور نماز میں شیطانی وساوس اور برے خیالات کو فوری طور پر روک دیتا ہے۔
دوسری ہدایت: وضو کے دوران پاؤں کو پانی سے دھونے کے بجائے گیلے ہاتھوں سے پاؤں کے اوپر مسح کریں۔
اثرات: یہ طریقہ اعصاب کے برقی ہیجان کو ٹھنڈا کرتا ہے اور نماز میں شیطانی وساوس اور برے خیالات کو فوری طور پر روک دیتا ہے۔