احساسِ کمتری، زبان میں لکنت، چہرے پر ہوائیاں اڑنا اور قوتِ ارادی کی کمزوری: باوضو رہنے کا عمل
Severe Inferiority Complex, Speech Stammering & Depleted Willpower: Constant Ablution (Ba-Wudu) Protocol
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: (سوال نمبر ۱۸۵ امیج ۶۲، ص ۲۰۱)—احساسِ کمتری کی وجہ سے کسی کے سامنے بات نہیں کر سکتا: ا۔ احمد: میں شدید احساسِ کمتری میں مبتلا ہوں، کسی کے سامنے بات نہیں کر سکتا۔ زبان میں لکنت آ جاتی ہے، ذرا سی محنت کرنے کے بعد تھک جاتا ہوں۔ کوئی فکر کی بات ہو تو چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگتی ہیں، بہت کمزور اور لاغر ہو گیا ہوں۔ جواب (بصیرت افروز اخلاقی و روحانی تنبیہ): غلط دوستوں کی صحبت میں رہ کر جس عادت کو آپ نے اختیار کیا ہے اس کا ثمرہ یہی ہوتا ہے۔ میرے بھائی! کیوں اپنے ساتھ دشمنی کر رہے ہو۔ یہ عادت آپ کی صحت کو دیمک کی طرح چاٹ جائے گی۔ اب بھی وقت ہے سنبھل جائیے اور اچھے لوگوں کی صحبت میں اٹھئے بیٹھئے۔ ہر وقت باوضو رہئے کہ اس عمل سے آدمی کے اندر قوتِ ارادی مضبوط اور مستحکم ہو جاتی ہے۔
وظیفہ مبارک و نقش
ترکیب و طریقہ کار
باوضو رہنے کا معمول: دن رات ہر وقت باوضو (با طہارت) رہنے کا پختہ اہتمام کریں۔ جب بھی وضو ٹوٹے، فوراً نیا تازہ وضو بنا لیں۔
روحانی و اعصابی فوائد: مسلسل باوضو رہنے سے انسان کے چہرے پر نور آتا ہے، اندرونی خوف و لکنت زائل ہوتی ہے اور قوتِ ارادی اتنی مضبوط ہو جاتی ہے کہ احساسِ کمتری خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔