روحانی توجیہ: گوشت میں زہر کا خوف، منہ پر کپڑا، لزرڈ فوبیا اور ہڈیوں کا ڈھانچہ (دماغی لہراتی خلاء اور شہد کا علاج)
Acute Persecutory Poisoning Delusion, Lizard Phobia & Skeletal Emaciation: Hazira Cerebral Ray Voids & High-Density Honey Regimen
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: (سوال نمبر ۱۸۰ امیج ۶۱، ص ۱۹۷-۱۹۸)—روحانی توجہیہ: انسان کا وجود لوحِ محفوظ میں قائم ہے: ہمشیرہ... احمد کراچی: بقر عید کے روز گوشت کھاتے ہوئے میرے بھائی نے یہ کہا کہ اس میں کسی نے زہر ملا دیا ہے۔ پھر اس نے یہ کہا میرے جسم میں کوئی سوئیاں چبھو رہا ہے۔ اس کے بعد اس کی یہ حالت ہو گئی ہے کہ ہر وقت منہ پر کپڑا لپیٹے رہتا ہے۔ منہ کھولنے کے لئے کہتے ہیں تو کہتا ہے کہ اگر منہ سے کپڑا ہٹایا تو میرے منہ میں چھپکلی چلی جائے گی۔ کبھی کہتا ہے کھانے میں کسی نے پارہ ڈال دیا ہے، بس میں بیٹھتا ہے تو کنڈیکٹر سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ مجھے فلاں جگہ جانا ہے اس لئے کہ اگر منہ سے رومال ہٹایا گیا تو کوئی زہریلی چیز منہ میں چلی جائے گی۔ جب ہم اسے بہت مجبور کرتے ہیں اور اس کے سامنے کھانا رکھتے ہیں تو اسے متلی ہونے لگتی ہے۔ کوئی بھی باہر کا یا گھر کا آدمی اس کے جسم پر ہاتھ رکھ دے تو چیخ اٹھتا ہے کہ تم نے میرے سوئی لگا دی ہے۔ خدا اور رسول کا نام نہیں لے سکتا کیونکہ بقول اس کے خدا کا نام لینے سے اس کا دل ڈوبنے لگتا ہے۔ منہ پر رومال باندھے تھوکتا رہتا ہے۔ ہم زبردستی رومال کھول دیتے ہیں تو بہت ناراض ہوتا ہے اور شور مچاتا ہے کہ تم سب میرے دشمن ہو، چاہتے ہو کہ میرے حلق میں زہر چلا جائے تاکہ میں مر جاؤں۔ پوری رات چارپائی پر کھڑا رہتا ہے، صبح اذان ہونے کے بعد تھوڑی دیر کے لئے سوتا ہے۔ گھر کے سب لوگ پریشان ہیں۔ میرا بھائی کھانا نہ کھانے کی وجہ سے ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا ہے۔ باوجود ہر طرح کے علاج کے کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔ ہم کیا کریں، کہاں جائیں، کس سے علاج کرائیں؟ جواب (عظیم باطنی و نیورو سائیکاٹرک مقالہ): آدمی کا اصل وجود لوحِ محفوظ میں قائم ہے۔ لوحِ محفوظ سے یہ عکس روشنی کے بہاؤ کی شکل میں لوحِ دوئم یعنی حظیرہ میں آ جاتا ہے، حظیرہ میں یہ روشنیاں بکھر کر فرد کی زندگی بن جاتی ہیں۔ یہ زندگی حظیرہ سے منتقل ہو کر ارض کی سکرین پر آتی ہے تو انسانی زندگی کے تمام خدوخال الگ الگ ہو جاتے ہیں۔ ان خدوخال میں روشنیاں مختلف رنگ اختیار کر لیتی ہیں۔ سب سے پہلے رنگ کو ہم آسمانی رنگ کا نام دے سکتے ہیں۔ آسمانی رنگ فی الحقیقت کوئی رنگ نہیں ہے بلکہ ان کرنوں کا مخلوط ہے جو حظیرہ سے آئی ہیں۔ کرنوں کا یہ مخلوط انسان کے دماغ پر وارد ہوتا ہے تو انسان کے سر میں اس کی فضا سرایت کر جاتی ہے، نتیجے میں وہ لا تعداد خلیے جو انسان کے سر میں موجود ہیں، اس فضا سے معمور ہو جاتے ہیں۔ یہ لا تعداد خلیے ہی انسان کے اعصاب میں حرکت بنتے ہیں اور انہی کا غیر متوازن ہونا اعصابی نظام میں خلل ڈالتا ہے۔ اگر دماغ میں کرنوں کا ہجوم ہو جائے اور وہ بکھر کر صحیح طور پر منتشر نہ ہوں تو دباؤ کی بنا پر خلیوں کی اندرونی دیواریں ٹوٹ جاتی ہیں اور نظامِ عمل میں ایک خلاء واقع ہو جاتا ہے۔ دماغ میں جب ایسا خلاء واقع ہوتا ہے تو خلیوں میں ایک سمت کرنوں کا تصرف بڑھ جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ خلیے کسی قسم کی یادداشت سے خالی ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ آدمی نارمل زندگی کے واقعات یاد کرنا چاہتا ہے، بار بار یاد کرنا چاہتا ہے مگر اسے یاد نہیں ہوتے۔ ایک طرف تو یہ ہوتا ہے اور دوسری طرف رو کا اتنا ہجوم ہو جاتا ہے کہ دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے اور خلیوں میں جو ترتیب ہونی چاہئے وہ باقی نہیں رہتی۔ بلکہ اس میں ایسی بے قاعدگی ہو جاتی ہے کہ مریض ایک بات زمین کی کہتا ہے، ایک آسمان کی اور جو بات کہتا ہے وہ شعوری حدود سے باہر ہوتی ہے۔ کم یا زیادہ اسی مرض کو پاگل پن، مراق، مالیخولیا اور بے حواسی کا نام دیا جاتا ہے۔ من و عن آپ کے بھائی کے ساتھ بھی یہی صورتحال درپیش ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے بھائی کو میٹھی چیزیں زیادہ سے زیادہ کھلائیں۔ آپ جب ان کے سامنے میٹھی چیزیں رکھیں گی تو وہ رغبت سے کھائیں گے، لیکن اس میں یہ احتیاط ضروری ہے کہ میٹھی چیزیں اس طرح استعمال کرائی جائیں کہ وہ ثقیل نہ ہوں۔ مثلاً دودھ میں خالص شہد شامل کر کے دودھ پلایا جائے۔ میٹھا دلیا، ساگو دانہ اور سوجی کا حریرہ وغیرہ کھلایا جائے۔ دو ہفتے کے اس علاج سے انشاء اللہ ان کی موجودہ کیفیت ختم ہو جائے گی۔ (نوٹ: خالص شہد بازار میں دستیاب نہ ہو تو مجھ سے لے لیں، میرے پاس موجود ہے!)
وظیفہ مبارک و نقش
ترکیب و طریقہ کار
غذائی اصول (میٹھی غذاؤں کی کثرت): دماغ کے اس خلیاتی خلاء کو بھرنے اور لہروں کو اعتدال پر لانے کے لیے مریض کو زیادہ سے زیادہ میٹھی مگر زود ہضم غذائیں دی جائیں جنہیں وہ رغبت سے کھائے گا۔
تجویز کردہ مینو: (۱) نیم گرم دودھ میں ایک سے دو چمچ خالص شہد گھول کر دن میں کئی بار پلائیں۔ (۲) میٹھا پتلا دلیا۔ (۳) دودھ میں پکا ہوا ساگو دانہ۔ (۴) سوجی کا پتلا حریرہ یا کھیر۔
سخت احتیاط: بازاری مٹھائیاں، ثقیل چکنائیاں اور سخت مرغن کھانے ہرگز نہ دیے جائیں۔
مدت و ثمرہ: مسلسل دو ہفتے تک یہ غذائی علاج جاری رکھنے سے خلیات کا دباؤ نارمل ہو جائے گا، منہ سے کپڑا ہٹ جائے گا اور توہمات مکمل ختم ہو جائیں گے۔