علمی توجیہ: کہکشانی نظام، علمِ نجوم، اور انسانی جذبات و کیفیات پر ستاروں کی روشنی کا عمل دخل

Astrophysics, Cosmic Galactic Rays & Human Consciousness: Parapsychological Basis of Astrology & Light Mechanics

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

سوال: (سوال نمبر ۱۷۹ امیج ۶۰، ص ۱۹۵-۱۹۶)—علمی توجیحہ: کہکشانی نظام اور ہمارا علمِ نجوم: وسیم اقبال، نارتھ ناظم آباد کراچی: کیا انسانی زندگی پر ستارے اثر انداز ہوتے ہیں اور جذبات و کیفیات کا کوئی تعلق ستاروں سے ہے؟ جواب (عظیم الشان کائناتی و روحانی مقالہ): 'اور ہم نے بنائے ہیں آسمان میں بروج اور زینت بخشی دیکھنے والوں کے لئے۔ اور محفوظ کر لیا شیطان راندہ درگاہ سے' (القرآن)۔ آسمانوں کو زینت بخشی اہل نظر کے لئے اور جو لوگ اہل نظر نہیں ہیں ان سے زینت کو مخفی فرما دیا۔ قرآنِ پاک میں یہ بھی ارشاد ہوا ہے کہ ہم کوئی نئی بات نہیں کہہ رہے ہیں بلکہ جو بات پہلے کہی گئی ہے اس کا اعادہ کیا جا رہا ہے۔ موجودہ سائنس کی دنیا کہکشانی اور شمسی نظاموں سے اچھی طرح روشناس ہے۔ کہکشانی اور شمسی نظاموں کی روشنی زمین کی نوعوں: انسان، حیوان اور جمادات پر اثر انداز ہوتی ہے، یہ مرحلہ سائنس کے سامنے آ چکا ہے بالآخر سائنس دانوں کو یہ سمجھنا پڑے گا کہ شمسی نظاموں کی روشنی انسان کے اندر، نباتات کے اندر، جمادات کے اندر کس طرح اور کیا عمل کرتی ہے، کس طرح جانوروں، انسانوں، نباتات اور جمادات کی کیفیات میں رد و بدل کرتی رہتی ہے؟ سائنس کا عقیدہ یہ ہے کہ زمین پر ظاہر اور چھپی ہوئی ہر موجود شے کا قیام لہر اور صرف لہر ہے، ایسی لہر جس کو روشنی کے علاوہ کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔ قدرت کا یہ چلن ہے کہ وہ لامتناہی تفکر سے متناہی تفکر کو فیضان پہنچاتی رہتی ہے۔ پوری کائنات میں اگر قدرت کا یہ فیضان جاری نہ ہو تو کائنات کے افراد کا درمیانی رشتہ کٹ جائے۔ عام زبان میں تفکر کو 'انا' کا نام دیا جاتا ہے اور انا یا تفکر ایسی کیفیات کا مجموعہ ہوتا ہے جن کو مجموعی طور پر 'فرد' کہتے ہیں۔ اسی طرح کی تخلیق ستارے بھی ہیں اور ذرے بھی۔ ہمارے شعور میں تو یہ بات بالکل نہیں آتی یا بہت کم آتی ہے کہ تفکر کے ذریعے ستاروں، سیاروں، ذروں اور تمام مخلوق سے ہمارا تبادلہ خیال ہوتا رہتا ہے۔ ان کی انا یعنی تفکر کی لہریں ہمیں بہت کچھ دیتی ہیں اور ہم سے بہت کچھ لیتی ہیں۔ کہکشانی نظام اور ہمارے درمیان بڑا مستحکم رشتہ ہے، پے در پے جو خیالات ہمارے ذہن میں آتے ہیں، وہ دوسرے نظاموں اور ان کی آبادیوں سے ہمیں وصول ہوتے رہتے ہیں۔ یہ خیالات روشنی کے ذریعے ہم تک پہنچتے ہیں۔ روشنی کی چھوٹی بڑی شعاعیں، خیالات کی تصویریں لے کر آتی ہیں۔ انہی تصویروں کو ہم اپنی زبان میں توہم، تخیل، تصور اور تفکر وغیرہ کا نام دیتے ہیں۔ سمجھا یہ جاتا ہے کہ یہ ہماری اپنی ایجادات ہیں لیکن ایسا نہیں ہے بلکہ تمام مخلوق سوچ اور تفکر کا ایک نقطہ مشترک رکھتی ہے۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے: 'وہ ذات جس نے تمہیں تخلیق کیا نفسِ واحدہ سے'۔ یہی نقطہ مشترک تصویروں کو جمع کر کے ان کا علم دیتا ہے۔ ہماری زندگی، ہمارا مشاہدہ سب کا سب اسی علم پر قائم ہے۔ جس نظام شمسی میں ہم رہتے ہیں ظاہر ہے اس نظام شمسی کے سورج سے ہماری زمین کا تعلق ہے اور اسی سورج سے اور سیاروں کا بھی تعلق ہے، بالکل اسی طرح جیسے ہماری زمین کا ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ ایک سورج کے گرد گردش کرنے والے تمام سیارے ایک دوسرے کی روشنیوں کا، کسی نہ کسی طرح اثر لیتے ہیں۔ اس طرح جس طرح ہمارا سورج کہکشاں کی روشنیوں سے متاثر ہوتا ہے، نتیجہ میں ہم زیرِ اثر ہیں کہکشاں کی روشنیوں کے جو سورج کی معرفت ہمیں ملتی ہیں، سیاروں کی وہ روشنیاں جو سورج سے تمام سیاروں کو ملتی ہیں وہ سب روشنیاں مل کر بھی ہمارے سیارے کو متاثر کرتی ہیں۔ یہ روشنیاں باہم دگر مخلوط ہیں ان کا اثر ہمارے سیارے کی ہر چیز پر پڑتا ہے خواہ آدمی ہو، چوپایہ ہو، درخت ہو، پودا ہو، گھاس ہو، قطرہ ہو، ذرہ ہو وغیرہ وغیرہ۔ اور چیزوں سے ہمیں بحث نہیں صرف آدمی سے بحث ہے، چنانچہ آدمی کے دماغ میں ان روشنیوں کا مخلوط دخل ہو کر اثر کرتا ہے۔ ان روشنیوں کی قسمیں ہمیں بہت کم معلوم ہیں چونکہ اس سلسلہ میں ہمارا علم نہایت محدود ہے اس لئے ہمارا علمِ نجوم ناقص ہے۔ البتہ یہ بات ماننی پڑے گی کہ سیاروں کی روشنی کا اثر پڑتا ہے اور ضرور پڑتا ہے۔ محض جذباتی کیفیات ہی نہیں بلکہ ہر قسم کی کیفیات سیاروں کی روشنی سے متاثر ہوتی ہیں۔

وظیفہ مبارک و نقش

کائناتی و قرآنی حکمت: خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ، اور کہکشانی روشنیوں کے انسانی دماغ پر اثرات کا سائنسی فہم

ترکیب و طریقہ کار

کائناتی فزکس کی بنیاد: کائنات کی ہر شے مادی جمود نہیں رکھتی بلکہ نور اور لہروں (Waves of Light) کا زندہ مرکب ہے۔
خیالات کی ترسیل کا ذریعہ: انسان کے ذہن میں وارد ہونے والے خیالات محض دماغ کی پیداوار نہیں بلکہ کہکشانی نظاموں اور کائناتی آبادیوں کی وہ روشنیاں ہیں جو روشنی کی لہروں کے ذریعے منتقل ہو کر تخیل اور تفکر کا روپ دھارتی ہیں۔
نفسِ واحدہ کا قانون: تمام کائنات ایک مشترک مرکز 'نفسِ واحدہ' سے جڑی ہوئی ہے، جس کے باعث سیارے، ستارے اور زمین باہمی لہروں کا متواتر تبادلہ کرتے رہتے ہیں۔
علمِ نجوم کی حقیقت: روایتی علمِ نجوم اگرچہ انسان کی محدود معلومات کی وجہ سے نامکمل ہے، مگر ستاروں اور سیاروں کی مخلوط روشنیوں کا انسانی اعصاب، مزاج، جذبات اور جسمانی کیفیات پر براہِ راست اثر انداز ہونا ایک قطعی اور سائنسی حقیقت ہے۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital