عجیب و غریب سمعی و بصری توہمات (سانپ، نیولا، ٹپکتی بوندیں): لہروں کے طولِ موج کا بگاڑ اور نیلی روشنی کا غسل
Somatosensory & Audiovisual Hallucinations (Crawling Snakes, Mongoose & Water Drops): Wave Frequency Derangement & Blue Chromotherapy
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: (سوال نمبر ۱۷۳ امیج ۵۹، ص ۱۹۲-۱۹۳)—نیولا، سانپ اور جھینگر میرے لئے عذاب بن گئے ہیں: میں عجیب و غریب حالات سے دوچار ہوں، کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا ہے کہ کیا کروں۔ حالات یہ ہیں کہ ایک مخصوص مقام پر کھنچاؤ اور تناؤ رہتا ہے اور وہاں سے غیر مرئی بوندوں کے ٹپکنے کا احساس ہوتا ہے، بوند کی آواز باقاعدہ سنائی دیتی ہے۔ یہی بوندیں جسم کے باقی حصوں سے بھی ٹپکتی رہتی ہیں۔ کان کے قریب ہر وقت سرسراہٹ ہوتی رہتی ہے اور احساس سانپ رینگنے کا ہوتا ہے۔ آنکھیں بند کرتا ہوں تو سانپ نظر آتا ہے۔ ایک روز غیر اختیاری طور پر میرا ہاتھ زیرِ ناف چلا گیا اور میں نے اس جگہ سے ایک چھپکلی کو جھٹک کر دور گرا دیا۔ کوٹھے پر نظر گئی تو وہاں کمرہ میں گدلا پانی دیکھا اور اس پانی میں جھینگر تیرتے ہوئے دیکھے۔ اکثر مجھے فضاء پر کالی چیزیں حرکت میں نظر آتی ہیں۔ رات کے وقت میرے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ میں نے نیولے جیسی کالی غیر مرئی شے اپنی داہنی طرف نمودار ہوتے ہوئے دیکھی پھر اس شے نے اپنی صورت تبدیل کر لی، وہ شے میرے دائیں شانے پر آئی اور غائب ہو گئی۔ ان تمام واقعات کی توجیہ کیا ہے؟ جواب (طبیعیاتی و لہراتی توجیہ): ہمارے ارد گرد بہت سی آوازیں پھیلی ہوئی ہیں۔ ان کے قطر بہت چھوٹے اور بہت بڑے ہوتے ہیں جن کو انگریزی میں ویو لینتھ (Wave Length) کہتے ہیں۔ سائنس دانوں نے اندازہ لگایا ہے کہ چار سو قطر سے نیچے کی آوازیں بھی آدمی نہیں سن سکتا۔ چار سو ویو لینتھ سے نیچے کی آوازیں برقی رو کے ذریعہ سنی جا سکتی ہیں اور ایک ہزار چھ سو ویو لینتھ سے زیادہ اونچی آوازیں بھی بجز برقی رو کے سننا ممکن نہیں ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ دماغی خلیوں سے تمام اعصاب کا تعلق ہے، تمام اعصاب پر ان کا اثر پڑتا ہے۔ دماغ جس بیس پر قائم ہے، قرآنِ پاک کے بیان کردہ قانون کے مطابق وہ سب روشنی ہے، اس کے معنی یہ ہوئے کہ ہم مستقل برقی رو میں گھرے ہوئے ہیں۔ یہ برقی رو دماغی خلیوں کے تصرف سے باہر آتی ہے اور طرح طرح کے رنگوں کا جال آنکھوں کے سامنے لاتی ہے۔ رنگوں کا یہ متنوع جال ہی ہمارے اندر حس پیدا کرتا ہے، اگر اس تنوع میں قدرتی اعتدال باقی نہ رہے تو ہم عام حالات سے ہٹ کر دیکھنے، سننے اور سوچنے لگتے ہیں۔ آپ کے اندر آوازوں کا قطر (جو برقی رو کے علاوہ کچھ نہیں ہے) اعتدال میں نہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ آپ غیر مرئی بوندوں کی آواز سنتے ہیں۔ اسی طرح بصارت میں کام کرنے والی برقی رو بھی متاثر ہے، آنکھ کے پردوں پر جو عمل ہوتا ہے وہ خلیے کے اندر بہنے والی رو سے بنتا ہے۔ سماعت اور بصارت کی حس میں آپس کا ایک تعلق ہے؛ جب رو کا ہجوم کانوں کی طرف ہوتا ہے تو آپ آوازیں سننے لگتے ہیں اور جب یہ ہجوم آنکھوں کی طرف منتقل ہو جاتا ہے تو آپ کو غیر مرئی چیزیں نظر آنے لگتی ہیں۔ اس کا علاج یہ ہے کہ آپ رات کو سونے سے پہلے اور دن میں بیس بیس منٹ نیلی روشنی میں لیٹا کریں۔ یہ روشنی بجلی کے بلب کے ذریعہ حاصل کی جا سکتی ہے۔
وظیفہ مبارک و نقش
ترکیب و طریقہ کار
علاج کا طریقہ (کروموتھیراپی): کمرے میں ایک مناسب طاقت کا نیلا برقی بلب (Blue Light Bulb) لگائیں۔
دورانیہ و نشست: روزانہ دن کے وقت ۲۰ منٹ اور رات کو بستر پر سونے سے پہلے ۲۰ منٹ تک اس نیلے بلب کی روشنی کے نیچے پرسکون ہو کر آنکھیں بند کر کے سیدھے لیٹے رہیں۔
طبی اثرات: نیلی روشنی دماغی خلیات کے شدید ہیجان، اعصابی کھنچاؤ اور غیر متوازن لہروں کو ٹھنڈک اور اعتدال بخشتی ہے، جس سے چند ہی روز میں غیر حقیقی آوازیں اور ہولناک بصری التباسات ہمیشہ کے لیے غائب ہو جاتے ہیں۔