انتہائی قلیل آمدنی، شوہر کی مار پیٹ اور گھریلو معاشی بحران: وظیفہ اور گھریلو ٹیوشن/سلائی کی تدبیر
Extreme Financial Scarcity & Spousal Domestic Abuse: Asma-ul-Husna Wazifa & Home Micro-Enterprise (Tutoring/Sewing)
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: (سوال نمبر ۱۶۲ امیج ۵۶، ص ۱۸۷-۱۸۸)—دو سو پچیس روپے اور چھ آدمی: ایک بہن، کراچی: میرے شوہر کی تنخواہ تین سو روپے ماہانہ ہے۔ اس تنخواہ میں سے ۷۵ روپے مکان کا کرایہ نکل جاتا ہے۔ ہم دو میاں بیوی اور چار بچے دو سو پچیس روپے میں ایک مہینے کا خرچہ کس طرح پورا کر سکتے ہیں؟ شوہر سے کہتی ہوں کوئی اور کام دیکھ لیں مگر وہ ناراض ہو جاتے ہیں اور غصہ میں بچوں کو مار مار کر ادھ موا کر دیتے ہیں۔ اب تو مجھ سے بھی لڑنے لگے ہیں کہ تو نے میری زندگی عذاب بنا دی ہے۔ میرے ایک عزیز نے انہیں پارٹ ٹائم جاب دلانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ کوئی کام کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کا ساتھ ہے، کوئی ایسا عمل بتا دیجئے کہ جس کی برکت سے شوہر کے دل میں کام کرنے کا شوق پیدا ہو جائے۔ جواب: ہر نماز کے بعد ایک سو ایک مرتبہ 'اَلْمَلِكُ الْقُدُّوْسُ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ' پڑھ کر دعا کریں۔ آپ خود بھی ہمت سے کام لے کر گھر میں کوئی کام شروع کر دیں، مثلاً یہی کہ سلائی شروع کر دیں، آپ پڑھی لکھی ہیں گھر میں ٹیوشن سینٹر کھول لیں۔ حرکت میں برکت ہوتی ہے، انشاء اللہ حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔
وظیفہ مبارک و نقش
ترکیب و طریقہ کار
عملی اقدام اور خود انحصاری: صرف وظیفے پر ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہ بیٹھیں بلکہ خود ہمت کر کے گھر کے اندر باوقار کام شروع کریں۔
تجویز کردہ روزگار: چونکہ آپ پڑھی لکھی ہیں، اس لیے گھر میں محلے کے بچوں کے لیے ٹیوشن سینٹر قائم کریں یا کپڑوں کی سلائی کڑھائی شروع کریں۔
برکت کا اصول: حرکت میں ہی برکت ہے؛ جب آپ خود معاشی قدم اٹھائیں گی تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے شوہر کا غصہ بھی ختم ہوگا اور گھریلو تنگی بھی خوشحالی میں بدلے گی۔