والدہ کی طرف سے گھر میں شدید گالیاں اور جھگڑے: اعتدال، ایثار اور خاموش درگزر کا خاندانی حل
Maternal Abusive Outbursts & Domestic Discord: Moderation, Compassionate Forbearance & Emotional Venting
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: (سوال نمبر ۱۶۱ امیج ۵۶، ص ۱۸۷)—والدہ گندی گندی گالیاں بکتی ہیں: ق الف، لاہور: ہمارا گھرانہ اسلامی طرزِ زندگی پر ایمان رکھتا ہے، گھر میں مذہبی ماحول بھی ہے۔ لیکن میری والدہ ہر وقت گالیاں بکتی رہتی ہیں، ابا جان سے بلا وجہ لڑنا ان کا معمول ہے۔ گھر کی فضا ایسی ہو گئی ہے جس میں لڑائی اور ایک دوسرے پر طعن و تشنیع کرنا ہر شخص کے معمول میں داخل ہو گیا ہے۔ سب بہن بھائی آپس میں الجھے رہتے ہیں اور ماں کی زبان سے سننے والی غلیظ گالیاں ایک دوسرے کو دیتے رہتے ہیں۔ گھر میں اداسی اور غم ناک فضا چھائی رہتی ہے۔ میں سوچتا رہتا ہوں اس جہنم سے کہیں دور بھاگ جاؤں لیکن میرے اس اقدام سے مثال قائم ہو جائے گی، دوسرے بہن بھائی بھی یہی کریں گے۔ بہت پریشان ہوں کوئی عمل بتا دیجئے کہ ہمارے گھر کا ماحول ٹھیک ہو جائے۔ جواب (بصیرت افروز خاندانی رہنمائی): والدہ صاحبہ کی طبیعت میں ضد اور غصہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ آپ کے والد صاحب کے مزاج میں انتہا پسندی ہے۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ آپ کے گھر میں فضول خرچی کا دور دورہ ہے، دراصل یہ بھی انتہاء پسندی کی علامت ہے۔ اسلامی طرزِ زندگی صرف یہ نہیں ہے کہ خدا اور رسول کا زبانی تذکرہ ہوتا رہے لیکن دل صاف نہ ہو۔ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے، اس میں انتہا پسندی کو کوئی دخل نہیں ہے۔ قدرت کا نظام اعتدال پسند ہے اور اعتدال چاہتا ہے۔ گھر کے ماحول میں اعتدال لانے کی کوشش کیجئے، مسائل سے نجات مل جائے گی۔ اس کا طریقہ یہ ہو گا کہ آپ خود ایثار سے کام لے کر اپنی زندگی بدل دیں۔ کوئی کچھ بھی کہے اس کو خندہ پیشانی سے سن لیں، نصیحت کرنے سے پرہیز کریں۔ والدہ صاحبہ اگر گالیاں بکتی ہیں تو انہیں اپنے دل کی بھڑاس نکال لینے دیجئے؛ رفتہ رفتہ حالات خود معمول پر آ جائیں گے۔
وظیفہ مبارک و نقش
ترکیب و طریقہ کار
پہلا سنہری اصول (ایثار و خاموشی): خود پہل کر کے اپنی زندگی میں ایثار پیدا کریں۔ گھر میں کوئی غصے یا لڑائی کی بات کرے تو اس کا ترکی بہ ترکی جواب دینے کے بجائے خندہ پیشانی سے خاموش ہو جائیں۔
دوسرا سنہری اصول (نصیحت بازی بند): والدہ یا والد کو اچھائی کی نصیحتیں اور درس دینا بند کر دیں، کیونکہ اشتعال کی حالت میں نصیحت جلتی پر تیل کا کام کرتی ہے۔
تیسرا سنہری اصول (کتھارسس / بھڑاس نکلنے دینا): والدہ جب گالیاں دیں یا چلائیں تو ان کے راستے میں رکاوٹ نہ بنیں اور انہیں دل کی ساری بھڑاس باہر نکال لینے دیں۔ بغیر مخالفت کے جب ان کا غبار نکل جائے گا تو حالات خود بخود ٹھنڈے ہو کر معمول پر آ جائیں گے۔