رشتے اور ازدواجی الجھنیں: گریجویٹ بیٹیوں کا رشتہ، پسند کا اظہار، اور سول میرج کو نکاح میں بدلنے کی فہم
Matrimonial Dilemmas: Graduate Daughters' Proposals, Unspoken Affection, and Resolving Civil Marriage via Formal Nikah
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: (سوال نمبر ۱۵۹ امیج ۵۶، ص ۱۸۶)—ازدواجی و خاندانی مسائل: (۱) م ک ب، کراچی: میری دو لڑکیاں ماشاء اللہ گریجویٹ ہیں، شادی کے قابل ہیں مگر کوئی رشتہ ہی نہیں آتا۔ دعا کریں یہ دونوں اپنے گھر کی ہو جائیں۔ (۲) ف ن، کراچی: میں ایک شخص کو اپنا شریکِ زندگی بنانا چاہتی ہوں۔ میرے والد صاحب بھی ان سے بہت متاثر ہیں۔ یہ ہمارے کاروبار میں ملازم ہیں۔ اشاروں کنایوں میں بات کی مگر وہ ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ روحانی علاج سے بتائیں کہ وہ خود زبان سے رشتے کی بات کریں۔ (۳) ایک غم زدہ باپ: میری بڑی بیٹی ڈاکٹری پڑھ رہی ہے، اس نے ایک صاحب کے ساتھ سول میرج کر لی ہے جبکہ یہ صاحب دو اور لڑکیوں سے شادی کر چکے ہیں، ایک لڑکی اب بھی ان کے نکاح میں ہے۔ بیٹی کہتی ہے میں نے خود دوسری شادی کی اجازت دی ہے۔ یہ صاحب بہت کم تنخواہ پر ملازم ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ لڑکی کے دل میں نفرت پیدا ہو جائے اور سول میرج ختم ہو جائے۔ جواب: (جواب نمبر ۱): سورۃ الاخلاص پوری سورت ۲۱ مرتبہ پڑھ کر لڑکیوں کی شادی کے لئے دعا کریں، ۹۰ (نوے) دن تک۔ (جواب نمبر ۳): غم زدہ باپ کے لئے میرا مشورہ یہ ہے کہ لڑکی کے دل میں نفرت پیدا کرنے کی بجائے اس بات کی کوشش کریں کہ سول میرج، نکاح میں بدل جائے۔ خاندانی عزت و وقار کو درمیان میں نہ لایا جائے تو یہ کام آسانی کے ساتھ ہو جائے گا۔
وظیفہ مبارک و نقش
ترکیب و طریقہ کار
غمزدہ باپ کے لیے فکری اصلاح (نمبر ۳): بیٹی کے دل میں نفرت پیدا کر کے رشتہ توڑنے کی دعا یا وظیفہ مانگنا غلط اور تباہ کن رویہ ہے۔
عملی دانشمندی: باپ کو چاہئے کہ وہ جھوٹی خاندانی عزت، نام نہاد وقار اور انا کی دیوار گرا دے، اور مثبت انداز میں آگے بڑھ کر اس سول میرج کو باقاعدہ شرعی نکاح اور رخصتی میں تبدیل کر دے تاکہ بیٹی کا مستقبل اور عزت محفوظ رہے۔