کیا جھوٹ اور سچ جیسی غیر مادی چیزوں کو تولا یا ناپا جا سکتا ہے؟ فلسفہ پیمائش و مقدار

Can Abstract Realities Like Truth & Falsehood Be Measured? Metaphysics of Quantity and Calibration

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

سوال: (سوال نمبر ۱۵۸ امیج ۵۶، ص ۱۸۵-۱۸۶)—ہم جھوٹ کو نہیں تول سکتے: جو چیزیں مادی وجود رکھتی ہیں ان کو پیمانے سے ناپا جا سکتا ہے مثلاً گندم کو تولا جا سکتا ہے، مگر جو چیزیں مادی وجود نہیں رکھتیں وہ پیمانے سے پرکھی نہیں جا سکتیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جھوٹ برائی ہے، جھوٹ کا ایک وجود بھی ہے، ساری دنیا اسے تسلیم بھی کرتی ہے مگر جھوٹ کو تولا نہیں جا سکتا۔ شاید آپ یہ جواب دے کر ٹال دیں کہ یہی قانونِ قدرت ہے مگر ہم پوچھیں گے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ جواب (حکیمانہ توجیہ): جھوٹ، سچ یا اس قسم کی چیزوں کو اس لئے نہیں تولا جا سکتا کیونکہ ان کی مقداریں نہیں ہیں۔ تولنے یا ناپنے سے مراد مقداروں کا تعین ہے اور جہاں مقدار نہ ہو وہاں مقداروں کا تعین کیسے ہو گا!

وظیفہ مبارک و نقش

فلسفیانہ و علمی توجیہ: تولنے اور ناپنے کا تعلق صرف مقادیر (حجم و کمیت) سے ہے، غیر مادی حقائق مقدار سے ماوراء ہیں

ترکیب و طریقہ کار

پیمائش کی تعریف: تولنا یا ناپنا صرف انہی اشیاء میں ممکن ہے جن کا مادی وجود ہو اور وہ مخصوص حجم، وزن یا مقدار رکھتی ہوں۔
غیر مادی حقائق کی نوعیت: سچ، جھوٹ، محبت اور نفرت جیسی حقیقتیں اگرچہ کائنات میں زندہ وجود رکھتی ہیں مگر وہ مادی مقداروں (Physical Quantities) سے پاک ہیں۔
حکیمانہ نتیجہ: چونکہ تولنے کا بنیادی مقصد مقداروں کی حد بندی کرنا ہے، اس لیے جہاں سرے سے کوئی مادی مقدار ہی نہ ہو، وہاں ترازو یا پیمانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital