کیا جنات انسانی جسم میں داخل ہو سکتے ہیں؟ جنات، آسیب اور ہسٹریا کا دماغی خلیاتی و لاشعوری تجزیہ

Can Jinn Inhabit the Human Body? Neuro-Cellular & Parapsychological Analysis of Hysteria, Possession & Ghayb

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

سوال: (سوال نمبر ۱۵۷ امیج ۵۵، ص ۱۸۳-۱۸۵)—عورتوں پر ہی جنات کا اثر کیوں ہوتا ہے: عبد الرشید، کراچی: بعض لوگوں کو میں نے جنون کی حالت میں دیکھا ہے جن میں اکثریت عورتوں کی ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فلاں صاحب کے اوپر جن آ گیا ہے یا ان صاحبہ کے اوپر جنات کا اثر ہے، ان لوگوں کی حرکات عجیب و غریب ہوتی ہیں، بعض مریض مستقبل یا ماضی کی خبریں بھی دیتے ہیں۔ مستقبل میں کیا ہے یہ بات تو کوئی بھی نہیں جانتا لیکن ماضی کے واقعات ٹھیک ہوتے ہیں۔ مریض طاقت کا زبردست مظاہرہ کرتا ہے، کئی کئی جوان اس کو قابو کرنے میں عاجز رہتے ہیں۔ بھاگنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی رفتار عام حالات سے بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ یہ بات بھی مشاہدہ میں آئی ہے کہ مریض کئی کئی روز کچھ نہیں کھاتا لیکن اس کی توانائی بدستور قائم رہتی ہے۔ دریافت طلب بات یہ ہے کہ کیا مرد اور عورت کے اندر جن داخل ہو سکتا ہے اور وہ اس کو اپنا معمول بنا کر اپنی من مانی کرا سکتا ہے؟ اگر ایسا ہے تو یہ انسان کے 'شرف' کے بالکل خلاف ہے، یہ کیسے ممکن ہے کہ اشرف المخلوقات سے کوئی جن جو چاہے کرا لے۔ دوسری بات یہ ہے کہ زیادہ تر عورتیں ہی اس بیماری کا شکار کیوں ہوتی ہیں؟ پھر بیماری کے دوران وہ گزرے ہوئے واقعات یا مستقبل میں پیش آنے والی باتوں کی نشاندہی کس طرح کرتے ہیں؟ کیا ہسٹریا میں ایسا ہوتا ہے؟ ہسٹریا کی پوری کیفیت کیا ہے؟ ایک اور سوال ہے کہ عامل حضرات اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے جنات کو جلا دیا ہے۔ جنات آگ کے بنے ہوئے ہیں، ان کو جلانا کیونکر ممکن ہے؟ جواب (علمی و لاشعوری تجزیہ): اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کئی جگہ ارشاد کیا ہے کہ 'یہ میری آیات ہیں... تفکر کرو، غور کرو'۔ کہیں یہ فرمایا ہے کہ 'میں تو سمجھا رہا ہوں تم نہیں سمجھ رہے ہو'۔ ان ارشادات کی روشنی میں ذرا اس مسئلے کو سمجھئے۔ تفکر سے کام لیجئے۔ پوری نوعِ انسانی میں کوئی فردِ واحد ایسا نہیں ہے جس کو کبھی حواس کی صلاحیتوں کا تجربہ نہ ہوا ہو، بیداری میں یا خواب میں۔ مثال: ایک آدمی جو سگریٹ پیتا ہے، سگریٹ جلانے کے لئے دیا سلائی جلاتا ہے۔ بارہا یہ ہوتا ہے کہ پہلی یا دوسری سلائی گل ہو جاتی ہے اور یہ بھی ہوتا ہے کہ پہلی دیا سلائی میں سگریٹ سلگ جاتا ہے۔ اکثر اس بات کو اتفاقی امر کہا جاتا ہے... غور طلب بات یہ ہے کہ یہ اتفاق آخر کیوں ہوا؟ دیکھا گیا ہے کہ تیز ہوا میں بھی پہلی دیا سلائی سگریٹ سلگا دیتی ہے... پھر یہ امر اتفاقی کیونکر ہوا؟ ضرور کوئی نہ کوئی وجہ پسِ پردہ ضرور ہے، ایسی وجہ جو بذاتِ خود قانونِ قدرت ہے اور جس میں رد و بدل نہیں ہوتا۔ اس ہی قسم کے خواب میں تجربات ہوتے ہیں۔ کوئی واقعہ جو آئندہ پیش آنے والا ہے من و عن خواب میں نظر آ جاتا ہے۔ بات کیا ہے؟ دراصل انسانی حواس دو طرح کام کرتے ہیں: براہِ راست اور بالواسطہ۔ بالواسطہ کام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم آنکھوں کے ذریعے دیکھتے ہیں، کانوں کے ذریعے سنتے ہیں، ہاتھوں کے ذریعے پکڑتے ہیں اور پیروں کے ذریعے چلتے ہیں۔ حواس کے براہِ راست کام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہم بغیر اعصابی نظام کے خواب کی حالت میں دیکھتے، سنتے اور چلتے پھرتے ہیں حالانکہ جسم بالکل معطل ہے؛ بیداری میں بھی کبھی کبھی حواس براہِ راست کام کرتے ہیں۔ دماغ کے دو کھرب خلیوں میں غیب اور شہود دونوں قسم کی باتیں ہوتی ہیں۔ جب ایسے خلیے کھلتے ہیں جن کا تعلق غیب سے ہوتا ہے تو مرد یا عورت غیب کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ غیب میں کام کرنے والے خلیوں کے کھلنے سے اعصابی طاقت بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ انسان کی کائنات دماغ کے اندر ان دو کھرب خلیوں سے باہر واقع ہے بلکہ جو کچھ ہے سب کچھ ان دماغی خلیوں میں ہے۔ جنات کسی جسم میں سرایت نہیں کر سکتے! یہ ایک مرض ہے جو دماغ کی کمزوری اور وہم سے پیدا ہوتا ہے۔ دماغی کمزوری اور وہم جس قدر بڑھ جاتا ہے مرض میں اسی قدر اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس مرض کا نام کچھ بھی رکھ لیا جائے: جنون، آسیب، ہسٹریا یا جنات کی سواری وغیرہ۔ عورتوں کو ہسٹریا زیادہ ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا حلقہ معلومات بہت مختصر ہوتا ہے، مرد ان کے مقابلے میں زیادہ تجربہ رکھتے ہیں، معاشی حالات میں چونکہ مردوں کو زیادہ فکر کرنا پڑتا ہے اس لئے مردوں کا دماغ زیادہ مصروف رہتا ہے؛ یہ مصروفیت ان کے دماغ کو اتنی مہلت نہیں دیتی کہ وہ ہسٹریا کے مرض کی طرف رجوع کر سکیں۔ ہسٹریا ایک ایسا مرض ہے جس کا تعلق دماغی خلیوں سے ہوتا ہے۔ جس قدر دماغی خلیے کھلتے ہیں اتنا ہی ہسٹریا طاقتور ہوتا ہے۔ آدمی کے دماغ میں دو کھرب خلیے ہیں، دو کھرب میں زیادہ سے زیادہ دس، بیس، پچاس یا زیادہ سے زیادہ سو کھلتے ہیں لیکن یہ صورتحال مردوں کے ساتھ ہے۔ اس کے برعکس عورتوں کے دماغ میں کئی کئی سو خلیے کھل جاتے ہیں اور پھر وہ بند نہیں ہوتے۔ جب ان خلیوں کے اندر کسی وجہ سے گیس پیدا ہوتی ہے اور زیادہ جمع ہو جاتی ہے تو دورہ پڑ جاتا ہے۔ ہم یہ بتا چکے ہیں کہ اس میں جنات کا کوئی دخل نہیں ہے۔ جنات کو جلانا ناممکن ہے! جو لوگ یہ کہتے ہیں غلط کہتے ہیں اس لئے کہ بغیر سوچے سمجھے بات کرنا بھی انسان کی عادت ہے۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا ہے: 'میں نے جنات کو آگ سے پیدا کیا ہے اور انسان کو مٹی سے'۔

وظیفہ مبارک و نقش

علمی و توحیدی نظریہ: جنات کے انسانی جسم میں داخل ہونے کی نفی، دماغ کے دو کھرب خلیات اور ہسٹریا کی حقیقت

ترکیب و طریقہ کار

بنیادی عقیدہ و ردِ وہم: یہ غیر متزلزل حقیقت ذہن نشین کی جائے کہ جنات کسی بھی مرد یا عورت کے جسم میں داخل نہیں ہو سکتے؛ اشرف المخلوقات کا جسم کسی غیر مرئی مخلوق کا مسکن نہیں بن سکتا۔
حواس کی دوئی کا فہم: انسانی حواس دو طرح کام کرتے ہیں: بالواسطہ (آنکھ، کان، ہاتھ پاؤں سے) اور براہِ راست (خواب یا باطنی توجہ کے ذریعے بغیر مادی اعصاب کے)۔ خواب کے سچے نظارے براہِ راست حواس کا ثبوت ہیں۔
دماغی خلیات اور غیب کا انکشاف: دماغ کے دو کھرب خلیوں میں غیب کے خلیے بیدار ہونے پر انسان کے حواس میں غیبی مشاہدات اور زبردست اعصابی قوت کا مظاہرہ ہوتا ہے۔
ہسٹریا اور دوروں کا علاج: یہ مرض آسیب یا جنات نہیں بلکہ دماغی کمزوری، تنہائی، محدود مصروفیات اور خلیوں میں گیس کے دباؤ کا نتیجہ ہے۔ علاج کے لیے وہم دور کیا جائے، اعصاب کو طاقت دی جائے اور مریض کو فعال و مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھا جائے۔
عاملین کے دعوؤں کی تردید: جنات کو جلانے کا دعویٰ قطعی باطل ہے کیونکہ وہ خود آگ سے بنے ہیں اور آگ آگ کو نہیں جلا سکتی۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital