شوہر سے شدید نفرت، جلالی وظائف کی رجعت اور دماغی توازن کا بگڑنا (علاج اور مفاہمت کا راستہ)

Spousal Aversion, Rebound Psychosis from Jalali Incantations & Somatoform Hallucinations: Path to Reconciliation

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

سوال: (سوال نمبر ۱۵۵ امیج ۵۴، ص ۱۸۲-۱۸۳)—کمرے میں پتلا نظر آتا ہے: تین سال پہلے جب ہم نئے مکان میں آباد ہوئے تو وہاں ایک دن ہماری امی کو ایک آدمی نظر آیا، اس نے ایسے کپڑے پہنے ہوئے تھے جیسے جلاد کے ہوتے ہیں۔ اس جلاد نے امی سے کہا کہ یہاں نہ لیٹا کرو اس جگہ میری قبر ہے۔ ایک روز کمرہ میں بیٹھی کھڑکی سے نظارہ کر رہی تھیں کہ اچانک انہیں درختوں کی اوٹ میں ایک بابا نظر آئے، یہ بابا نظر آ کر غائب ہو گئے۔ اس کے بعد وہ پھر کبھی نظر نہیں آئے۔ ڈیڑھ ماہ بعد میرے بھائی نے بتایا کہ جب وہ اسکول جاتا ہے اس کے پیچھے دو دراز قد آدمی چلتے ہیں جن کا لباس ہرا ہوتا ہے۔ ایک روز میرے بھائی کو کمرہ میں ایک پتلا اڑتا ہوا نظر آیا، اس کے اندر سے روشنی بھی نکل رہی تھی۔ کچھ روز گزرنے کے بعد دیوار پر ایسا سایہ نظر آیا جس کے پر تھے۔ اس سایہ کے جسم میں سے آگ نکل رہی تھی، اس نے میرے بھائی سے کہا کہ میں ان سورتوں کا موکل ہوں جو تمہاری والدہ پڑھتی رہتی ہیں۔ اس منظر کے بعد دوسرا منظر یہ تھا کہ پروں والی چیز کے بدن سے آگ نکل رہی تھی۔ ایک روز مغرب کے وقت امی لیٹی ہوئی تھیں کہ ان کا پورا بدن سن ہو گیا، ہم نے انہیں اٹھانے کی کوشش کی مگر وہ ایک لاش کی طرح اکڑی ہوئی تھیں، تھوڑی دیر بعد خود بخود ہوش میں آ گئیں اور اٹھ کر بیٹھ گئیں۔ پوچھنے پر بتایا کہ میں بابا کے ساتھ گئی تھی اور پھر یہ سلسلہ روز ہونے لگا۔ اس کے بعد امی کی طبیعت عجیب سی ہو گئی ہے، خود سے باتیں کرتی ہیں، کبھی ہنستی ہیں اور کبھی رونے لگتی ہیں۔ ایک روز ہمارے اوپر یہ انکشاف ہوا کہ بابا نے ہماری امی کی شادی اپنے لڑکے سے کر دی ہے۔ بالآخر ہم نے یہ مکان چھوڑ دیا۔ دوسرے مکان میں انہیں کوئی چیز نظر نہ آئی البتہ امی کی حالت پہلے سے بھی خراب ہو گئی ہے۔ وہ ہر وقت گالیاں بکتی رہتی ہیں، کمرے میں بند ہو کر پتہ نہیں کیا کرتی ہیں، نماز روزہ ترک کر دیا ہے، زکوٰۃ دینے کو برا سمجھتی ہیں، کہتی ہیں خدا نے میرے سب گناہ معاف کر دیے ہیں۔ کسی غریب یا فقیر کو دیکھتی ہیں تو کہتی ہیں کہ ان پر ترس نہیں کھانا چاہئے، ان کے اوپر اللہ کا عذاب ہے، کسی کے سلام کا جواب نہیں دیتیں۔ انتہائی مغرور ہو گئی ہیں، ہر وقت خود سے باتیں کرتے رہنا اور بے بات ہنسنا اس کا مشغلہ ہے۔ جواب: آپ کی والدہ صاحبہ کے ذہن میں اپنے شوہر کے لئے نفرت کا جذبہ کارفرما ہے۔ ایسا کیوں ہے یہ ایک الگ موضوع ہے۔ نفرت کی وجوہات ختم کرنے کے لئے انہوں نے وظیفوں کا سہارا لیا اور جس نے جو عمل بتایا شروع کر دیا۔ نتیجہ میں کسی جلالی وظیفے کی رجعت سے ان کا دماغ الٹ گیا اور صحیح حواس باقی نہ رہے۔ آپ کے بھائی کو جو کچھ نظر آتا ہے وہ بھی انہی وظیفوں کی وجہ سے نظر آتا ہے، موجودہ صورت میں یہ مرض ناقابلِ علاج ہے۔ کیونکہ اس کے لئے کسی ایسے آدمی کی توجہ درکار ہے جو اتنی طاقت رکھتا ہو کہ دماغ کو اپنی جگہ پر واپس لے آئے۔ اس کام میں بہت زیادہ ہمت، طاقت اور توجہ کی ضرورت ہے۔ ظاہر ہے کوئی بھی شخص اتنی توجہ نہیں دے سکتا۔ اس میں ایک قباحت یہ بھی ہے کہ دماغ جگہ پر آنے کے بعد بھی عرصہ دراز تک توجہ ضروری ہے البتہ ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ آپ کے والد صاحب اپنے رویہ پر تنہائی میں آپ کی والدہ کے سامنے بار بار اظہارِ معذرت کریں۔ اس طرزِ عمل سے زیادہ نہیں تو پچاس فیصد صحت کی بحالی کا امکان ہے۔

وظیفہ مبارک و نقش

روحانی و نفسیاتی رہنمائی: والد صاحب کا تنہائی میں والدہ کے سامنے بار بار سچے دل سے معافی مانگنا اور اظہارِ معذرت کرنا

ترکیب و طریقہ کار

باطنی تشخیص: والدہ کے ذہن میں شوہر کے خلاف دہکتی ہوئی نفرت کی آگ تھی؛ اس نفرت کو دبانے یا ختم کرنے کے لیے انہوں نے مختلف لوگوں سے سن کر بے دریغ سخت اور جلالی وظائف پڑھنا شروع کر دیے جن کی الٹی چوٹ (رجعت) سے ان کا دماغ اپنے محور سے الٹ گیا۔
توہمات کی حقیقت: بھائی اور ماں کو نظر آنے والے پتلے، جلاد اور آگ والے سائے دراصل والدہ کے بکھرے ہوئے تخیل اور وظائف کی رجعت کی مقناطیسی لہروں کے مادی عکس تھے۔
علاج کا واحد راستہ: چونکہ کسی عامل کی مسلسل توجہ دینا ناممکن ہے، اس لیے مرض کی اصل جڑ یعنی شوہر کے رویے کو بدلنا ہوگا۔
عملی طریقہ: والد صاحب کو چاہئے کہ وہ تمام انا چھوڑ کر تنہائی میں بار بار والدہ کے سامنے اپنے ماضی کے نامناسب رویے پر سچے دل سے ندامت کا اظہار کریں اور معافی مانگیں۔ شوہر کی سچی معذرت والدہ کے زخم خوردہ لاشعور پر مرہم کا کام کرے گی جس سے ۵۰ فیصد تک دماغی صحت واپس لوٹ سکتی ہے۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital