عقائد کا تذبذب، روحانی علاج پر بے یقینی اور فحش لٹریچر کے اثرات: مستقل باوضو رہنے کا نسخہ
Theological Skepticism, Doubts in Spiritual Healing & Erotic Literature: Therapy of Constant Wudu
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: (سوال نمبر ۱۵۱ امیج ۵۲، ص ۱۷۸-۱۷۹)—میں روحانی علاج پر یقین نہیں رکھتا: محمد عامر مرزا، کراچی: میں ایک ایسا انسان ہوں جو نیک کام کرنے کے لئے ترستا ہوں۔ بہت دعا کرتا ہوں کہ خدا مجھے توفیق دے اور میں نیکی کی طرف مائل ہو جاؤں اللہ سے بھی نا امید ہو جاتا ہوں۔ یومِ حشر پر بھی یقین نہیں ہے، طبعاً بہت نرم ہوں، ہر مصیبت زدہ آدمی پر رحم آ جاتا ہے لیکن بھلائی کی توفیق ہی نہیں ہوتی۔ خواجہ صاحب آپ جو یہ روحانی علاج لکھتے ہیں اس پر بھی میں یقین نہیں رکھتا۔ نہیں معلوم آپ کی تحریر میں کیا تاثیر ہے کہ میں باوجود نہ چاہنے کے آپ کو خط لکھنے بیٹھ گیا ہوں۔ ممکن ہے آپ کے مشورے پر عمل کر کے میری زندگی سدھر جائے۔ جواب: آپ نے جنسی کتابیں، رومانوی ناول، حیا سوز افسانے اور عریاں لٹریچر بہت پڑھا ہے، اس مطالعہ کی وجہ سے آپ کے خیالات پراگندہ ہو گئے ہیں دماغ میں تاریکی بھر گئی ہے۔ خیالات جب گردش کرتے ہیں تو ان میں کثافت اور تاریکی اس حد تک شامل ہو جاتی ہے کہ آپ ضمیر کی روشنی سے محروم ہو جاتے ہیں۔ یہ چند جملے اس لئے لکھے گئے ہیں کہ آپ یہ سمجھ لیں کہ روحانی علاج میں مرض کی تشخیص اور وجوہات معلوم کرنے کا الگ شعبہ ہے۔ علاج بہت آسان ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ کثیف اور تاریکی سے پُر خیالات کو روکا نہ کیجئے خیالات آتے ہیں تو آنے دیجئے، خود گزر جائیں گے۔ آپ کو صرف اتنا کرنا ہے کہ آپ ہر وقت باوضو رہنے کی کوشش کریں زیادہ نہیں چند ہفتوں میں کماحقہ، مسئلہ کا حل نکل آئے گا۔ انشاء اللہ۔
وظیفہ مبارک و نقش
ترکیب و طریقہ کار
خیالات کے ساتھ عدم مزاحمت: اپنے ذہن میں ابھرنے والے تاریک، کثیف اور گندے خیالات کو زبردستی روکنے یا ان سے لڑنے کی کوشش نہ کریں؛ خیالات آئیں تو انہیں پرسکون ہو کر گزر جانے دیں، مزاحمت نہ ملنے پر وہ خود ہی غائب ہو جائیں گے۔
بنیادی شرط (ہمہ وقت باوضو): آپ کو صرف ایک عملی کام کا التزام کرنا ہے کہ دن رات 'ہر وقت باوضو' رہنے کی کوشش کریں۔ جب بھی وضو ٹوٹے، فوراً تازہ وضو کر لیں۔
مدت و ثمرہ: چند ہفتوں کے اندر اندر وضو کے نور سے خیالات کی تاریکی چھٹ جائے گی، ایمان اور باطنی سکون بحال ہو جائے گا۔