تکلیف دہ مرض (بچے کا چلنے پھرنے سے معذور ہونا، دورے اور دنبہ کے منہ میں چاندی کے چھلے کا عمل)
Severe Childhood Neuro-Motor Disability, Toe-Walking, Seizures & The Ram Sacrifice Silver Ring Protocol
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: عرض یہ ہے میرا منجھلا بیٹا جس کی عمر ۸ سال ہے، اس بچے نے ڈھائی برس کی عمر میں چلنا شروع کیا، ابتدا میں صحت بہت اچھی تھی، چلتے چلتے گر جاتا تھا۔ جب یہ ۳ سال کا ہوا تو ہمارا تبادلہ سعودی عرب میں ہو گیا، یہاں آ کر اس کی ایڑھی زمین سے اوپر اٹھتی چلی گئی، کئی مہینے پنجوں کے بل چلا، پھر بچہ گھٹنوں کے بل چلنے لگا۔ ڈاکٹر کہتے ہیں یہ پیدائشی ہے اور دماغ سے گہرا تعلق ہے، عقل و شعور میں پیچھے ہے۔ پھر اس کو دورے پڑنے لگے۔ تیز بخار میں آنکھیں اوپر چڑھ گئیں، ہاتھ پیر اور بدن اکڑ گیا، منہ سے جھاگ آنے لگی، نو ماہ پہلے دو روز تک بے ہوش رہا۔ کھانا برائے نام کھاتا ہے، پانی حلق میں پھنستا ہے، بولنا بالکل ختم ہے، صرف امی کہتا ہے۔ منہ سے رال بہتی ہے، پاؤں پتلے اور سخت ہو گئے ہیں، چلنا بالکل ختم ہو گیا ہے۔ میری شادی رشتہ داروں میں ہوئی تھی اور خاندان میں ایسے بچے اور بھی ہیں۔ کوئی ایسا وظیفہ بتائیں جو کارگر ثابت ہو۔
وظیفہ مبارک و نقش
ترکیب و طریقہ کار
چاندی کا ایک سادہ چھلا بنوا لیں۔
دنبہ ذبح کرتے وقت یہ چاندی کا چھلا دنبے کے منہ میں زبان کے نیچے رکھ دیجئے۔
ذبح کرنے سے پہلے قربانی کی مسنون دعائیں مکمل پڑھیں اور دنبے کو قبلہ / شمال رخ لٹا کر ذبح کریں۔
جب دنبہ بالکل ٹھنڈا ہو جائے، اس کے منہ میں سے وہ چاندی کا چھلا نکال لیں اور اسے نیلے رنگ کے ڈورے (دھاگے) میں پرو کر بچے کے گلے میں ڈال دیں۔
دنبے کا سارا گوشت اور کھال غرباء و مساکین میں تقسیم کر دیں۔
چالیس (۴۰) روز کے بعد بچے کی تمام تر کیفیات سے مطلع کریں تاکہ اس کے مطابق دوسرا کورس تجویز کیا جا سکے۔ اس علاج کی مدت چالیس چالیس روز کے تین کورس ہیں۔