روس میں ہمزاد پر سائنسی تحقیق، روح کا نور اور انسان، جنات و فرشتوں کی روشنیوں کے تانے بانے کی فزکس
Soviet Kirlian Research on Astral Body, Divine Noor & Compound Light Physics of Man vs. Jinn
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: (سوال نمبر ۱۳۵ امیج ۴۹، ص ۱۶۹-۱۷۰)—روحانی توجیہ: روس میں ہمزاد کے بارے میں تحقیق جاری ہے۔ جواب و علمی مکاشفہ: قدرت کا قانون ہے کہ ماں باپ کے تخلیقی تقاضوں کی لہریں ایک نقطے پر مرکوز ہوتی ہیں تو تخلیق شروع ہوتی ہے۔ پہلے خون کی پھٹکی، پھر گوشت پوست کا لوتھڑا، اعصاب اور اعضاء بنتے ہیں اور پھر روح داخل ہو کر جیتا جاگتا انسان بناتی ہے۔ گوشت کا پتلا پہلے بنا، روح بعد میں داخل ہوئی۔ روح مادہ نہیں، اللہ کا نور ہے۔ گوشت پوست کا جسم نور نہیں بلکہ نور کی ذیلی تخلیقی روشنی ہے۔ روح اصل انسان ہے جو جسم کو حواس بخشتی ہے اور معین فارمولے پر اس کی حفاظت کرتی ہے۔ جب تعلق توڑتی ہے تو انسان مر جاتا ہے۔ سوویت یونین میں جسمِ مثالی (ہمزاد) پر کافی ریسرچ ہو چکی ہے اور وہ جسمِ مثالی کو کیمرے کے لینس پر منتقل کرنے (Kirlian Photography) میں کامیاب ہو چکے ہیں، لیکن اس کے محلِ وقوع اور روح سے تعلق پر ہنوز تحقیق جاری ہے۔ روح کا نور اتنا لطیف اور پرجلال ہے کہ مادی جسم اس کے براہِ راست تصرف کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ روح اس خلا کو پر کرنے کے لئے ایک برزخی جسم بناتی ہے جسے 'جسمِ مثالی'، 'ہیولیٰ'، 'روشنی کا ہالہ' یا 'ہمزاد' کہتے ہیں۔ روشنی کا یہ ہالہ جسم کے اوپر قائم رہ کر روح کی تحریکات کو جسم تک منتقل کرتا ہے۔ تکوینی فرق: انسان اور اس کی دنیا میں روشنی کا ہالہ 'مرکب لہروں کے تانے بانے' سے بنا ہے، جبکہ جنات اور فرشتوں میں مرکب کے بجائے 'اکہری روشنی' (Mono-frequency light) ہوتی ہے۔ ہمزاد تابع کرنے کی حقیقت: انسان فی الواقع ارادہ ہے اور ارادے کے ساتھ حرکت کا نام زندگی ہے۔ جب انسان اپنے ارادے کو حرکت دے کر اس ہیولیٰ یا روشنی کے ہالے (ہمزاد) سے کام لینے پر قادر ہو جائے تو اسے 'ہمزاد کا تابع ہونا' کہتے ہیں!۔
وظیفہ مبارک و نقش
ترکیب و طریقہ کار
سوویت ریسرچ اور کیمرہ: سوویت یونین کے سائنسدانوں نے الیکٹرو فوٹوگرافی (Kirlian aura) کے ذریعے انسان کے گرد موجود جسمِ مثالی کو کیمرے کے لینس پر منتقل کر کے اس کے مادی وجود کو ثابت کر دیا ہے۔
جسمِ مثالی (ہمزاد) کی ضرورت: انسانی گوشت پوست براہِ راست 'اللہ کے نور' (روح) کی تجلی کو برداشت نہیں کر سکتا، اس لیے روح اپنے اور مادی جسم کے درمیان رابطے کے لیے روشنیوں کا ایک ہالہ (ہیولیٰ / جسمِ مثالی) بناتی ہے جو تمام حرکات کا واسطہ بنتا ہے۔
تکوینی تفریق (انسان بمقابلہ جن و فرشتے): انسان کے ہالے کی بناوٹ بے شمار کائناتی اور زمینی 'مرکب لہروں' کے پیچیدہ تانے بانے پر مشتمل ہے، جبکہ جنات اور فرشتوں کا جسم خالص 'اکہری روشنی' سے بنا ہوتا ہے۔
ہمزاد کو مسخر کرنے کا راز: انسان کی اصل حقیقت اس کا 'ارادہ' ہے۔ ارادے کو حرکت میں لانے کی تربیت حاصل کر کے جب انسان اپنے اس نوری ہالے کو شعوری طور پر متحرک کرنے پر قادر ہو جاتا ہے تو اسے صوفیاء 'ہمزاد کا مسخر ہونا' کہتے ہیں۔