کالم کی ہمہ جہت طریقہ ہائے علاج اور سسپنس: غیر ضروری تجسس ترک کر کے فیض اٹھانے کی تلقین

Public Inquiry on Multi-Disciplinary Healing Modalities: Practical Efficacy Over Speculation

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

سوال: (سوال نمبر ۱۳۱ امیج ۴۷، ص ۱۶۷-۱۶۸)—برجیس جبیں، اسلام آباد: اخبارِ حریت ہر اتوار کو پڑھتی ہوں، آپ کے کالم میں قسم قسم کے علاج شائع ہوتے ہیں: وظائف، سائیکالوجیکل، حکیمی، پیراسائیکالوجیکل، نیگیٹو بینی، رنگ سے علاج، روشنی سے علاج، سورج کی شعاعوں سے علاج اور کچھ نہیں تو پلنگ کی چادروں اور تکیہ کے غلاف کے رنگوں سے علاج۔ بڑے بڑے ڈاکٹر جن کا علاج نہیں کر سکتے وہ ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اس کالم نے سسپنس پیدا کر دیا ہے۔ کیا کوئی شخص اتنے علوم پر عبور رکھ سکتا ہے؟ کیا آپ کو غیب کی خبریں ملتی ہیں؟ کراچی میں بیٹھ کر آپ ہر مرض کی درست تشخیص کیسے کرتے ہیں؟ جواب (ص ۱۶۸): یہ آپ عوام کا مسئلہ ان باتوں سے حل نہیں ہوتا، آپ تجسس چھوڑ دیجئے!۔

وظیفہ مبارک و نقش

تکوینی و فکری درس: علمی تجسس اور غیب کے جھمیلوں کو ترک کر کے عملی فلاح اور شفا کے اصولوں پر کاربند رہنے کی ہدایت

ترکیب و طریقہ کار

سائلہ کا استفسار: مختلف اور ہمہ جہت طریقہ ہائے علاج (طبی، نفسیاتی، روحانی اور شعاعی) کے بیک وقت استعمال اور دور دراز بیٹھے درست تشخیص پر حیرت۔
تکوینی حکمت: علومِ باطنیہ اور رنگ و روشنی کی فزکس کا مقصد تماشہ دکھانا یا اپنی بڑائی جتانا نہیں بلکہ دکھی مخلوق کی بے لوث خدمت ہے۔
اصلاحی جواب: عوام کو علمی الجھنوں، غیب کی کھوج اور غیر ضروری تجسس میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے، بلکہ جو علاج جس مقصد کے لیے بتایا جائے اس سے اخلاص کے ساتھ فائدہ اٹھانا چاہیے۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital