۲۸ سالہ خاتون کو مرگی کے دورے، دانتوں سے زبان کچلنا اور متوفی تایا کا نظر آنا: مقوی دماغ دوائیں اور خالص شہد
Generalized Tonic-Clonic Epilepsy, Tongue Laceration & Visual Auras: Neurotonics & Honey
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: (سوال نمبر ۱۳۰ امیج ۴۷، ص ۱۶۷)—امتیاز بانو، کراچی: میری آپا جن کی عمر ۲۸ سال ہے، ۱۴ سال کی عمر میں ہاتھوں کو جھٹکے لگنے شروع ہوئے۔ پھر ایک روز پاؤں زمین پر مارنا شروع کئے، پیشاب کر کے اٹھیں تو زمین پر گر گئیں۔ گرتے وقت زبان دانتوں کے نیچے آ کر کچلی جاتی ہے۔ دورے کے وقت فوت شدہ تایا ابو نظر آتے ہیں اور باجی رونا شروع کر دیتی ہیں اور اپنوں کو پہچان نہیں سکتیں۔ پہلے آنکھوں میں بجلی چمکتی تھی، اب صبح کے وقت ہاتھوں کو جھٹکے لگتے ہیں اور آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ جواب: آپ کی باجی کا دماغ کمزور ہے۔ دماغ کو تقویت پہنچانے والی دوائیں استعمال کرائیں، دواؤں کے ساتھ خالص شہد بھی روزانہ تین وقت دیں!۔
وظیفہ مبارک و نقش
طبی و اعصابی نسخہ: مرگی اور دماغی جھٹکوں کے ازالے کے لیے مستند مقویِ دماغ دوائیں اور خالص شہد کا ۳ وقت استعمال
ترکیب و طریقہ کار
تشخیص: یہ کیفیت مرگی (Grand Mal Epilepsy / Juvenile Myoclonic Epilepsy) کی کلاسیکی علامت ہے؛ آنکھوں میں بجلی چمکنا اس کا 'اورا' (Aura) تھا، اور دانتوں تلے زبان کچلنا تشنج کی دلیل ہے۔ فوت شدہ بزرگ کا نظر آنا دورے کے بعد دماغی خلیات کے وقتی تعطل کی ہذیانی کیفیت ہے۔
طبی علاج: مریضہ کو کسی ماہر نیورولوجسٹ یا حکیم کی زیرِ نگرانی اعصاب اور دماغ کو مضبوط کرنے والی باقاعدہ مقویِ دماغ ادویات استعمال کرائیں۔
شہد کا استعمال: ان ادویات کے ساتھ ساتھ خالص قدرتی شہد روزانہ تینوں وقت (صبح، دوپہر، شام) ایک ایک چمچ مستقل کھلائیں۔
طبی تاثیر: شہد دماغ کے نیورانز کو فوری گلوکوز فراہم کرتا ہے، خون کے لوتھڑوں کو گھلانے میں مدد دیتا ہے اور اعصابی جھٹکوں کی شدت کو توڑتا ہے۔
طبی علاج: مریضہ کو کسی ماہر نیورولوجسٹ یا حکیم کی زیرِ نگرانی اعصاب اور دماغ کو مضبوط کرنے والی باقاعدہ مقویِ دماغ ادویات استعمال کرائیں۔
شہد کا استعمال: ان ادویات کے ساتھ ساتھ خالص قدرتی شہد روزانہ تینوں وقت (صبح، دوپہر، شام) ایک ایک چمچ مستقل کھلائیں۔
طبی تاثیر: شہد دماغ کے نیورانز کو فوری گلوکوز فراہم کرتا ہے، خون کے لوتھڑوں کو گھلانے میں مدد دیتا ہے اور اعصابی جھٹکوں کی شدت کو توڑتا ہے۔