میں ہر طرح سے ٹوٹ چکی ہوں؟ (خوف کے دورے، نظریں ملانے کا خوف اور شادی کی توجیہ)

Severe Social Panic, Gaze Phobia, Death-Sight Shock & Marital Channeling of Sexual Energy

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

سوال: میری امی کا ۸ ماہ کی عمر میں انتقال ہو گیا تھا، بھائیوں نے پالا۔ بھابھی نے انتہائی غیرت کا مظاہرہ کیا اور پریشان کرنے کا کوئی موقع نہ چھوڑا جس کی وجہ سے میں ہر طرح سے ٹوٹ چکی ہوں۔ ۱۰، ۱۱ سال پہلے مجھ پر اچانک خوف کا دورہ پڑا، جب کسی مرے ہوئے انسان کو دیکھتی ہوں تو خوف عروج پر ہوتا ہے اور چند دنوں میں ہڈیوں کا ڈھانچہ بن جاتی ہوں۔ اب ایک بیماری یہ ہے کہ جب کسی آدمی سے بات کرتی ہوں، خواہ وہ بوڑھا ہو، جوان ہو، رشتہ دار ہو یا غیر ہو، اس سے آنکھ ملا کر بات نہیں کر سکتی۔ میری آنکھوں میں کچھ ایسی بات ضرور ہو جاتی ہے کہ دیکھنے والا مشکوک نظروں سے دیکھتا ہے، اور میرا کردار اس کے سامنے آ جاتا ہے تو میں خود بھی خوفزدہ ہو جاتی ہوں، حالانکہ میں نے انتہائی احتیاط کی زندگی گزاری ہے، نماز روزے کی پابند ہوں۔ بھائی شادی کرنے پر بضد ہیں، لیکن میں ذہنی لحاظ سے اس کے لیے بالکل تیار نہیں ہوں، کوئی شوہر یہ برداشت نہیں کر سکتا۔

وظیفہ مبارک و نقش

شادی کو ترجیح دینا تاکہ آنکھوں کی صنفی کشش فطری دائرے میں محدود ہو جائے

ترکیب و طریقہ کار

جواب: اگر میں ان حالات میں ہوتا تو اپنی اور دوسروں کی فلاح و بہبود کے لیے شادی کو ترجیح دیتا۔
حکمت: اس کی وجہ یہ ہے کہ آنکھوں میں سے یہ غیر ارادی صنفی کشش اور الجھن شادی کے بعد خود بخود شوہر تک محدود ہو کر فطری اعتدال پر آ جائے گی، اور یہ وہم و خوف دور ہو جائے گا۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital