متعدی امراض، ظالم حکمرانوں کا تسلط اور خانہ جنگی کے اسباب: ظلم، ناانصافی اور کفر کا تکوینی مفہوم

Cosmic Genesis of Epidemics, Tyrannical Rulers & Civil War: Injustice, Transgression & True Kufr

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

سوال: (سوال نمبر ۱۱۱ امیج ۴۱، ص ۱۵۵-۱۵۶)—مسز شاہدہ افتخار، کراچی: وہ کون سے گناہ ہیں جن کی زیادتی متعدی بیماریوں کا سبب بنتی ہے؟ وہ کون سے اعمال ہیں جن کی پاداش میں ظالم سربراہِ مملکت مسلط ہوتے ہیں، خانہ جنگی ہوتی ہے اور آسمانی بلائیں نازل ہوتی ہیں؟ جواب: انسان کی تخلیق خون کی پھٹکی سے ہوئی، پھر اللہ نے روح پھونک دی۔ جسم اور روح کے درمیان رابطہ رکھنے کے لئے روح تین واسطے قائم کرتی ہے: روحِ حیوانی، روحِ انسانی اور روحِ اعظم۔ جب کوئی فرد یا قوم دروبست روحِ حیوانی سے اپنا تعلق قائم کر لیتی ہے تو قانونِ قدرت کے تحت اس کا شمار 'ظالمین' میں ہوتا ہے۔ ان تمام آفات کا تعلق کسی نہ کسی طرح 'ظلم' سے ہے۔ ظلم کی تشریح یہ ہے کہ انسان ناانصافی کرے، دوسروں کے حقوق غصب کرے، اللہ کے قانون کو نظر انداز کرے، دنیاوی آسائشوں کو زندگی کا مقصد بنا لے۔ یہی اعمال قوموں کی تباہی لاتے ہیں۔ یہ غلط فہمی ہے کہ قومیں کفر سے تباہ ہوتی ہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہی ظلم وہ کفر ہے جس کا قرآن نے ذکر کیا ہے۔ جس قوم نے بھی ظلم کو اپنا شعار بنایا وہ ذلیل و خوار ہو کر برباد ہوئی، خواہ اس کا سبب قحط، زلزلے، قتل و غارت گری، طوفان، جنگیں، خانہ جنگی ہو یا ظالم اور سخت گیر حاکم کا مسلط ہونا!۔

وظیفہ مبارک و نقش

تکوینی و فلسفیانہ بصیرت: ظلم و ناانصافی قوموں پر قحط، متعدی وباؤں، خانہ جنگی اور ظالم حکمرانوں کے عذاب کا بنیادی محرک ہے

ترکیب و طریقہ کار

تکوینی قانون: اللہ تعالیٰ کا نور (روح) انسانی ڈھانچے کو چلانے کے لیے روحِ حیوانی، روحِ انسانی اور روحِ اعظم کا واسطہ اختیار کرتا ہے۔
ظلم کی حقیقت: جب کوئی معاشرہ یا قوم اعلیٰ انسانی و اخلاقی اقدار کو چھوڑ کر محض حیوانی جبلتوں، خود غرضی اور مفادات میں ڈوب جاتی ہے تو وہ ظلم کی مرتکب ہوتی ہے۔
کفر کا حقیقی مفہوم: قرآن پاک میں جس کفر پر قوموں کے نیست و نابود ہونے کا قانون بیان ہوا ہے، اس کا اصل اطلاق عدل کا جنازہ نکالنے، کمزوروں کے حقوق دبانے اور اللہ کے قانونِ فطرت سے بغاوت پر ہوتا ہے۔
عذاب کی مختلف شکلیں: جب اجتماعی ظلم حد سے بڑھتا ہے تو اس کے نتیجے میں کبھی مہلک متعدی بیماریاں پھیلتی ہیں، کبھی خشک سالی اور زلزلے آتے ہیں اور کبھی مکافاتِ عمل کے طور پر ظالم و جابر حکمران اور خانہ جنگی قوم پر مسلط کر دی جاتی ہے۔
نجات کا راستہ: اجتماعی توبہ، ناانصافی کا خاتمہ، معاشرتی عدل کا قیام اور مخلوق کے حقوق کی ادائیگی ہی ان آفات کا واحد دفاع ہے۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital