ہمزاد کی حقیقت، اقسام (روحِ حیوانی کا اسفل پرت)، فوائد اور نقصانات: تکوینی قانون اور روشنی کی رفتار
Metaphysical Nature, Mechanics & Dual Potential of the Hamzad (Qareen / Ethereal Double)
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: (سوال نمبر ۱۰۹ امیج ۴۰، ص ۱۵۴)—عقیل احمد، راولپنڈی: میں جاننا چاہتا ہوں کہ ہمزاد کیا ہوتا ہے، کیوں ہوتا ہے اور اس کے فوائد اور نقصان کیا ہیں؟ جواب: تکوینی قانون میں انسان کے اندر زندگی کو حرکت دینے والی چیز اللہ کی تجلی ہے۔ تجلی یا روح کے اوپر تین غلاف ہوتے ہیں: روحِ اعظم، روحِ انسانی اور روحِ حیوانی۔ ہر پرت پر دو دو اور پرت ہیں۔ روحِ حیوانی کے اس پرت کو جو اسفل کے تقاضے قبول کرتا ہے، ہمزاد کہتے ہیں۔ یہ پرت ایک پورا اور مکمل انسان ہوتا ہے جو ایک ہالے کی شکل میں جسمِ انسانی سے اوپر ہر آن اور ہر لمحہ قائم رہتا ہے۔ کیونکہ اس ہالہ میں براہِ راست روشنیاں قبول کرنے کی صلاحیت موجود ہے اس لئے اس کی حرکت اور ہر عمل روشنی کی رفتار سے ہوتا ہے۔ ہم جو کچھ دنیا میں کرتے ہیں وہ ہمیں ہمزاد کی بدولت وصول ہوتا ہے یا بالفاظِ دیگر ہمزاد ہمیں اپنا میڈیم بنا لیتا ہے۔ ہمزاد کیوں ہوتا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق اس طرح کی ہے اور یہ اللہ کا ایک راز ہے۔ فائدہ: انسان ہمزاد سے واقفیت حاصل کر لینے کے بعد خود کو پہچان لیتا ہے اور اللہ کی دستگیری سے عرفانِ الٰہی حاصل کر لیتا ہے۔ نقصان: ہمزاد کے منفی تقاضوں میں الجھ کر کوئی انسان شیطان کا آلہ کار بھی بن سکتا ہے!۔
وظیفہ مبارک و نقش
ترکیب و طریقہ کار
رفتارِ عمل: چونکہ ہمزاد براہِ راست روشنیوں کے نظام پر کام کرتا ہے، اس لیے اس کے اعمال اور تحریکات مادی حد بندیوں سے ماورا ہو کر روشنی کی رفتار (Speed of Light) سے واقع ہوتی ہیں۔
دنیاوی احساسات کا ذریعہ: ہم دنیا میں جو کچھ محسوس کرتے ہیں، کھاتے پیتے ہیں یا زندگی کے تقاضے نبھاتے ہیں، وہ تمام تر پیغامات ہمزاد ہی کے توسط سے ہمارے حواس تک پہنچتے ہیں۔
مثبت فائدہ: جو سالک روحانی مرشد کی زیرِ نگرانی ہمزاد کی حقیقت کو مسخر کر لیتا ہے، وہ اپنی خودی کو پہچان کر عرفانِ الٰہی کے اعلیٰ درجات طے کرتا ہے۔
سخت انتباہ: غیر شرعی، تاریک یا شیطانی طریقوں سے ہمزاد کی تسخیر انسان کے دین و ایمان کو برباد کر دیتی ہے اور انسان شیطان کا مہرہ بن کر ہلاکت میں گر جاتا ہے۔