دو مرتبہ مر کر زندہ ہونے کا سچا خواب، سر کے دو ٹکڑے ہونا اور روح کا غلبہ: مراقبہ اور لاشعوری تحریکات
Dream of Dying Twice, Cranial Decapitation & Resurrection: Subconscious Activation & Muraqaba
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: (سوال نمبر ۱۰۸ امیج ۳۹، ص ۱۵۳-۱۵۴)—میں غنودگی کے عالم میں تھا کہ ایک دم سانس نکل گیا اور لاش کی طرح بے حس و حرکت ہو گیا، ہلنے کی سکت نہ رہی۔ چند لوگ مجھے قتل کرنے آئے اور تیز دھار ہتھیار سے سر کے دو ٹکڑے کر دیئے۔ دہشت سے آنکھ کھلی، کلمہ پڑھ کر آنکھیں بند کیں تو ایک بزرگ آئے اور ان کی توجہ سے دہشت ختم ہو گئی۔ بزرگ کے جانے کے بعد اور آدمی آئے اور مجھے دبوچ لیا کہ سانس کا رابطہ منقطع ہو گیا۔ میں دوبارہ کیسے زندہ ہو گیا اور یہ بزرگ کون تھے؟ جواب: آپ کے اندر یہ خواہش بار بار پیدا ہوتی ہے کہ آپ اللہ کی راہ میں کوئی قربانی دیں۔ آپ کی روح جیسا کہ آپ کی خواہش تھی اللہ کے راستے میں شہید ہو گئی! بزرگ یہی بات بتانے آئے تھے لیکن آپ یاد نہیں رکھ سکے۔ جنہوں نے دبوچا وہ روح پر غلبہ حاصل کرنے کی نیت سے آئے تھے، خوف صرف دماغی عمل تھا۔ خواب اور بیداری میں یہی فرق ہے کہ بیداری کے حواس معطل ہونے پر دیکھے ہوئے اعمال عمل بن جاتے ہیں۔ بعض مرتبہ حواس پوری طرح معطل نہیں ہوتے اور انسانی شعور لاشعوری تحریکات میں سفر کرنے لگتا ہے۔ روحانیت میں مراقبہ کے ذریعے اسی بات کی کوشش کی جاتی ہے کہ لاشعوری تحریکات براہِ راست شعور میں منتقل ہو جائیں۔ جب انسان اس میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کا دماغ کھل جاتا ہے اور وہ دور دراز اور غیب کی چیزوں کا مشاہدہ کرنے کا اہل ہو جاتا ہے۔ یہ خواب بیداری سے قریب ترین ہے، اللہ نے آپ کے جذبے کو قبولیت عطا فرمائی ہے!۔
وظیفہ مبارک و نقش
ترکیب و طریقہ کار
بزرگ کی آمد: بزرگ کی تشریف آوری اسی روحانی شہادت اور تسکینِ قلب کی تصدیق کا پیام تھی، جبکہ حملہ آوروں کا دبوچنا باطنی امتحانات کی تمثیل تھی۔
مراقبہ کی علمی حقیقت: انسان کا شعور جب بیداری اور نیند کے درمیانی مقام پر سفر کرتا ہے تو لاشعور کی پوشیدہ کھڑکیاں کھل جاتی ہیں۔ صوفیاء مراقبہ کے ذریعے اسی حالت کو بیداری میں قابو کر کے غیب اور حقائق کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
بشارت: اس خواب سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں، یہ انتہائی مبارک خواب ہے اور قربِ الٰہی کی قبولیت کی دلیل ہے۔