نیلی اور آسمانی لہروں کا خلل، جسم کی سڑاند، بالوں کا نکلنا اور دھندلا پن: تکوینی کمپیوٹر اور اعصابی انحطاط

Disruption of Blue & Sky-Blue Cosmic Rays: Visceral Decomposition, Hirsutism & Blurred Vision

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

سوال: (سوال نمبر ۱۰۵ امیج ۳۶، ص ۱۴۹-۱۵۱)—ہر چیز غیر واضح اور دھندلی دکھائی دیتی ہے۔ پیشاب کرنے کے بعد پھٹے ہوئے دودھ کی طرح کوئی چیز خارج ہوتی ہے جس کا رنگ کبھی زرد اور کبھی بالکل نیلا ہوتا ہے جو رگڑ کر دھونے سے کپڑے سے نہیں اترتا۔ پیٹ اتنا بڑا ہو گیا ہے کہ سہیلیاں چھیڑتی ہیں اور لوگ حاملہ سمجھتے ہیں۔ معدے میں سوئیاں چبھتی ہیں، پیٹ میں جلن ہوتی ہے، ۵ منٹ جم کر بیٹھنا محال ہے۔ سینے پر لمبے لمبے بال ہیں، نسوانیت ختم ہو چکی ہے، مسوڑھوں سے خون اور پیپ بہتی ہے، دانت ہل کر ٹیڑھے ہو گئے ہیں، رات کو تھوک کثرت سے آتا ہے اور سارے جسم کا گوشت ڈھیلا ہو کر لٹک گیا ہے۔ جواب و علمی توجیہ (ص ۱۵۰-۱۵۱): آسمانی فضا سے جو تاثرات دماغ کے اوپر مرتب ہوتے ہیں وہ ایک بہاؤ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جسے خیالات کہتے ہیں۔ اگر یہ مقداریں غیر متوازن ہو جائیں تو نیلی روشنیوں کا بہاؤ بگڑ جاتا ہے۔ اگر نیلی یا آسمانی روشنی دوسری روشنیوں میں پوری طرح تحلیل نہ ہو تو نتیجہ میں دماغ پر غیر معمولی پریشر بنتا ہے۔ دماغ قدرت کا بنایا ہوا ایک ایسا کمپیوٹر ہے جو ضرورت سے زیادہ پریشر جسم کے دوسرے حصوں پر پھینک دیتا ہے۔ یہ پریشر دماغ سب سے پہلے معدہ میں ڈالتا ہے، پھر پنڈلیوں پر، پھر جگر پر منتقل کرتا ہے اور پھر خود دماغ متاثر ہو جاتا ہے۔ دماغ کے بصارت بخشنے والے خلیے جب متاثر ہوتے ہیں تو انسان رنگوں میں امتیاز کی قوت سے محروم ہو جاتا ہے اور نظر کے آگے پردے آ جاتے ہیں۔ اگر دماغی خلیات میں میزان نہ رہے تو جسم کی مشینری میں ٹوٹ پھوٹ واقع ہو کر اعصابی نظام مفلوج ہو جاتا ہے اور زندگی قائم رکھنے والی انرجی بول، براز، قے یا خون کے ذریعے ضائع ہونے لگتی ہے۔ تشخیص و حل (ص ۱۵۱): (۱) آپ کا نظامِ ہضم ایک عرصہ سے خراب ہے، بالآخر ہضم کی یہ خرابی بادی بواسیر کا مرض بن گیا ہے۔ دانتوں میں پائیوریا ہونے کی وجہ بھی نظامِ ہضم کی ہی خرابی ہے۔ (۲) آپ طویل عرصہ سے شدید نسوانی عارضہ (لیکوریا) میں مبتلا ہیں۔ یہ دو بیماریاں ختم ہونے پر تمام ثانوی امراض خود بخود ختم ہو جائیں گے انشاء اللہ۔

وظیفہ مبارک و نقش

تکوینی انکشاف و دو بنیادی اسباب: نظامِ ہضم کی خرابی (بادی بواسیر و پائیوریا) اور پرانا لیکوریا، جن کے ازالے سے تمام امراض خود بخود ختم ہو جائیں گے

ترکیب و طریقہ کار

باطنی تشخیصی نظریہ: انسانی دماغ کائناتی فضا سے روشنیوں اور شعاعوں کو جذب کرنے والا ایک خودکار عضو (قدرتی کمپیوٹر) ہے۔
پریشر کا راستہ (Cascade): جب آسمانی نیلی لہروں کا توازن بگڑتا ہے تو دماغ کا شدید دباؤ سب سے پہلے معدے میں گرتا ہے (جس سے جلن اور پیٹ کا پھولنا پیدا ہوتا ہے)، پھر پنڈلیوں اور وریدوں میں منتقل ہوتا ہے، اس کے بعد جگر میں داخل ہو کر خون اور ہارمونی نظام کو بگاڑتا ہے (جس سے سینے پر بال اور دانتوں کی خرابی پیدا ہوتی ہے)۔
بصارت کا زوال: جب یہ زہریلا دباؤ پلٹ کر دماغ کے بصری خلیات پر پڑتا ہے تو آنکھوں کے آگے دھندلے پردے آ جاتے ہیں اور بصارت زرد و نیلی روشنیوں کا اخراج بن کر ضائع ہونے لگتی ہے۔
دو بنیادی جڑیں (ص ۱۵۱): (۱) نظامِ ہضم کی پرانی خرابی جس نے بادی بواسیر اور دانتوں کے پائیوریا کی شکل اختیار کر لی ہے؛ (۲) طویل عرصے سے لاحق شدید نسوانی رطوبت (لیکوریا)۔ ان دونوں اصل بیماریوں کا باقاعدہ علاج مکمل ہوتے ہی باقی تمام اعصابی و جسمانی علامتیں خود بخود کافور ہو جائیں گی۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital