خواب کی علمی و سائنسی توجیح: دو دماغ، وقت کی قید سے آزادی اور تعبیر کے آداب
Scientific & Metaphysical Ontology of Dreams: Dual Brains, 60,000x Speed & Ta'bir Ethics
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: (سوال نمبر ۱۰۲ امیج ۳۴)—آدمی خواب کیوں دیکھتا ہے؟ اور خواب میں دیکھے ہوئے واقعات اور اعمال کی کیا واقعی کوئی اہمیت ہے؟ دوسرا سوال یہ کہ خواب ہر کس و ناکس کے آگے بیان کرنا چاہئے یا نہیں؟ جواب: آدمی کے اندر دو دماغ کام کرتے ہیں: ایک دماغ ٹائم اور سپیس کی حد بندیوں میں جکڑا ہوا ہے اور بیداری میں کام کرتا ہے۔ دوسرا دماغ زمان و مکان کی پابندیوں سے آزاد ہے اور خواب میں کام کرتا ہے۔ خواب ہماری زندگی کا نصف حصہ ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ خواب کی زندگی میں حواس کی رفتار بیداری کے حواس سے ساٹھ ہزار (60,000) گنا زیادہ تیز ہوتی ہے۔ اس تیز رفتاری کی بنا پر یہ حواس بیک وقت ماضی، حال اور مستقبل کا احاطہ کر لیتے ہیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ زندگی میں پیش آنے والے حادثات، خطرناک بیماریوں اور مصیبتوں سے محفوظ و مامون رہنے کے لیے خواب کے حواس ہمیں پیشگی اطلاعات فراہم کرتے ہیں۔ تمام آسمانی صحائف اور قرآن پاک سے یہ ثابت ہے۔ سورۃ یوسف میں چار خوابوں کا ذکر آیا ہے: (۱) حضرت یوسفؑ کا خواب (گیارہ ستارے، سورج اور چاند)؛ (۲) جیل کے پہلے قیدی کا خواب (انگور نچوڑنا)؛ (۳) دوسرے قیدی کا خواب (سر پر روٹی اور پرندوں کا کھانا)؛ (۴) بادشاہِ مصر کا خواب (سات موٹی گائیں اور سات دبلی گائیں، سات ہری بالیاں اور سات سوکھی بالیاں)۔ ان میں ایک خواب پیغمبر کا ہے اور تین عام انسانوں کے ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ حالات من و عن اسی طرح پیش آئے۔ خواب کس کے سامنے بیان کرنا چاہئے؟ خواب کبھی کسی ایسے شخص سے بیان نہیں کرنا چاہئے جو خواب کی تعبیر کے علم اور خواب کی فطرت سے واقف نہ ہو۔ ورنہ اس کا جواب یا الٹی سیدھی تعبیر خواب دیکھنے والے کے ذہن کو غلط محرکات پر ڈال سکتی ہے۔
وظیفہ مبارک و نقش
ترکیب و طریقہ کار
ساٹھ ہزار گنا تیز حواس: خواب کے عالم میں روح اور لاشعور کی رفتار بیداری کے مقابلے میں ساٹھ ہزار (60,000) گنا زیادہ تیز ہو جاتی ہے، جس کی بدولت خواب دیکھنے والا ماضی کی تہوں اور مستقبل کے پیش آنے والے واقعات کو پیشگی دیکھ لیتا ہے۔
قرآنی سند: سورۃ یوسف میں چار تاریخی خوابوں کا ذکر ہے جن میں سے تین خواب عام دنیا دار انسانوں (قیدیوں اور کافر بادشاہ) کے تھے، مگر ان کی دی گئی تعبیریں حرف بہ حرف سچ ثابت ہوئیں۔
خواب بیان کرنے کا شرعی و باطنی اصول: اپنا خواب ہر کس و ناکس، نادان، حسد کرنے والے یا نااہل شخص کے سامنے کبھی بیان نہ کریں۔ صرف اس باطنی صاحبِ علم اور مخلص کے سامنے بیان کریں جو تعبیر کے الٰہی علوم اور انسانی نفسیات کا مکمل فہم رکھتا ہو۔