وظائف کے اثرات پر اعتراضات کا تفصیلی جواب: برقی لہروں کا توازن اور صراطِ مستقیم
Reader's Critique on Wazaif Damage: Wave Dynamics, Mental Capacity & Siraat-e-Mustaqeem
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: (سوال نمبر ۹۳ امیج ۳۰، مورخہ ۱۹۷۶ء)—ایک قاری نے اعتراض کیا: آپ کہتے ہیں زیادہ ورد و وظائف سے دماغ کے خلیے متاثر ہوتے ہیں اور نقصان پہنچتا ہے۔ (۱) یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کلام پڑھ کر انسان بیمار ہو جائے؟ (۲) جب وظائف نقصان پہنچاتے ہیں تو آپ خود وظائف کیوں تجویز کرتے ہیں؟ (۳) کیا اس سے یہ تاثر قائم نہیں ہوتا کہ اللہ کے کلام کا سہارا لینے سے انسان دنیاوی مصائب میں مبتلا ہو جاتا ہے؟ آپ کون سے دین کی تبلیغ کر رہے ہیں؟ جواب: ڈاکٹر صاحب! یہ بتائیے کہ ایک مریض اگر بیک وقت تین چار ڈاکٹروں سے علاج کرائے اور ہر ایک کی دوا استعمال کرے یا کتابوں سے پڑھ کر خود دوائیں کھانے لگے، تو فائدہ ہو گا یا نقصان؟ قرآن پاک کی سورۃ النور (آیت ۳۵) میں اللہ فرماتے ہیں: 'اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا...'۔ کائنات کی ہر چیز روشنی پر قائم ہے۔ اللہ کے قانون کے تحت ہر وظیفے میں الگ مخصوص لہریں کام کرتی ہیں۔ یہ لہریں انسانی ذہن میں ایسے خاکے بناتی ہیں جو وسائل اور بیماریوں سے نجات دلاتے ہیں، لیکن اگر ان خاکوں میں عدمِ توازن ہو جائے تو مسلسل وظائف پڑھنے سے ذہن میں روشنیوں کا ایسا ذخیرہ ہو جاتا ہے جو وسائل اور صحت کے حصوں میں دیوار بن جاتا ہے! فقیر جب بھی وظیفہ تجویز کرتا ہے تو پہلے سائل کی ذہنی استعداد دیکھتا ہے۔ ہمارے لیے صراطِ مستقیم یہ ہے کہ ہم قانونِ فطرت کے مطابق زندگی بسر کریں، ہاتھ پیروں سے عمل کریں اور ساتھ ساتھ دستِ دعا دراز کریں۔ ایک بدو نے اپنا اونٹ چھوڑ دیا کہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا: 'اللہ کے بھروسے پر اس کا گھٹنا بھی باندھ لے!'
وظیفہ مبارک و نقش
ترکیب و طریقہ کار
روشنیوں کی لہریں: قرآن پاک کے ہر اسم اور آیت کی ایک مخصوص نورانی فریکوئنسی ہے جو دماغی خلیات پر نئے نقوش ثبت کرتی ہے۔ اگر یہ مقدار دماغی برداشت سے تجاوز کر جائے تو یہی توانائیاں انسان کے گرد ایک جامد دیوار کھڑی کر دیتی ہیں جس سے رزق اور صحت کے راستے مسدود ہو جاتے ہیں۔
روحانی معالج کا کردار: کامل روحانی معالج سائل کی نیت، دماغی ساخت اور روحانی طاقت (Zehni Ista'daad) کو دیکھ کر وظیفے کی خوراک اور تعداد مقرر کرتا ہے۔
صراطِ مستقیم کا نبوی اصول: سستی اور عمل سے فرار اختیار کر کے صرف وظائف پر تکیہ کرنا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ صراطِ مستقیم یہ ہے کہ انسان دنیاوی اسباب اختیار کرے، جسمانی محنت کرے اور ساتھ عاجزی سے اللہ کے حضور دعا گو ہو۔