وظائف کی رجعت، ۲۵ سالہ دورے اور حافظے کا زوال: نزول و صعود کا تکوینی قانون

Spiritual Blowback (Raj'at-e-Wazaif) & 25-Year Seizures: Metaphysical Law of Nuzool & Su'ood

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

سوال: (سوال نمبر ۹۲ امیج ۲۸)—میرے تایا جان کو ۲۵، ۲۶ سال سے دورے پڑتے ہیں۔ کیفیت یہ ہوتی ہے کہ نماز پڑھتے ہوئے یا کوئی کام کرتے ہوئے اچانک خاموش ہو جاتے ہیں، سارا جسم اکڑ جاتا ہے، بے ہوش نہیں ہوتے البتہ کچھ بڑبڑاتے رہتے ہیں جو کسی کی سمجھ میں نہیں آتا۔ دورہ ختم ہونے کے بعد ان کی یادداشت بالکل ختم ہو جاتی ہے، یا تو سو جاتے ہیں یا جو کام دورہ پڑنے سے پہلے کر رہے تھے اسے از سرِ نو شروع کر دیتے ہیں۔ ۷، ۸ سال پہلے ایک بگولا انہیں اٹھا کر جنگل میں لے گیا، واپس آئے تو گھی میں تر بتر تھے۔ ایک بزرگ کا تعویذ گلے میں تھا تب تک دورہ نہیں پڑا، مگر مسجد میں غسل کے وقت اتارا تو غائب ہو گیا۔ بزرگ نے کہا اب تعویذ لکھا تو جنات میرے دشمن ہو جائیں گے۔ جواب: دورہ کی کیفیت کے بعد حافظہ کا ختم ہو جانا اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ آپ کے تایا جان وظیفے بہت پڑھتے ہیں، ان وظیفوں میں کئی وظیفے جلالی ہیں۔ ہر ذی روح یا غیر ذی روح تخلیق کا اللہ تعالیٰ سے براہِ راست ایک رشتہ قائم ہے۔ 'نور' جب نزول کر کے لوحِ محفوظ میں آتا ہے تو صفات کا روپ دھار لیتا ہے۔ یہی صفات الگ الگ خدوخال بن کر تخلیق کی درجہ بندی کرتی ہیں۔ صفات کے نزول سے تخلیق میں حواس اور زندگی کی حرکات کا تعین ہوتا ہے۔ صفات دو رخ پر سفر کرتی ہیں: ایک نزولی، دوسرا صعودی۔ نزولی سے مراد یہ ہے کہ تخلیق میں زمین کے حواس پیدا ہوتے ہیں، اور صعود کا مطلب یہ ہے کہ نزول کے بعد پھر یہ صفات نور میں گم ہو جاتی ہیں۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کو اس طرح ارشاد کیا ہے: 'إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ'—ہر چیز اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ کی طرف لوٹ جاتی ہے۔ یہ بات محلِ نظر ہے کہ ہر لمحہ ازل اور ابد ہے۔ نزول ازل ہے اور صعود ابد ہے۔ پیدائش نزول ہے اور بچپن کا اختتام صعود ہے۔ اس طرح جوانی نزول ہے، جوانی ختم ہونا صعودی حالت ہے۔

وظیفہ مبارک و نقش

علمی و باطنی انکشاف: جلالی وظائف کی کثرت کا دماغی خلیات پر دھماکہ اور نزول و صعود کا تکوینی قانون

ترکیب و طریقہ کار

باطنی تشخیص: تایا جان کے دوروں کا اصل سبب آسیب یا جنات نہیں، بلکہ برسہا برس سے کثرت کے ساتھ جلالی وظائف اور چلے پڑھنا ہے جس کے نتیجے میں دماغی خلیات میں شدید رجعت اور برقی دھماکہ واقع ہوا ہے۔
تکوینی قانونِ نزول و صعود: کائنات کی ہر تخلیق نور سے وجود میں آتی ہے۔ نور جب تنزل کر کے لوحِ محفوظ سے گزرتا ہے تو صفات اور خدوخال بنتا ہے جسے 'نزول' (حیاتِ ارضی) کہتے ہیں۔ جب یہ صفات واپس اپنے منبع کی طرف کھنچتی ہیں تو اسے 'صعود' کہتے ہیں۔
رجعت کی حقیقت: جب کوئی انسان بغیر روحانی رہنمائی اور بغیر ذہنی استعداد کے سخت جلالی وظائف پڑھتا ہے، تو اس کے دماغ پر صعودی لہروں کا ایسا تیز جھونکا پڑتا ہے جو وقتی طور پر حواس اور یادداشت کے مادی پردوں کو بھسم کر کے جسم کو اکڑا دیتا ہے۔
ہدایت: تمام غیر مجاز جلالی وظائف کا پڑھنا فوری طور پر بند کر دیا جائے اور مریض کو صرف اعتدال پسند نورانی معمولات اور دعاؤں پر رکھا جائے۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital