شادی کے بعد کاروبار کی تباہی اور بیوی کا طلاق کا مطالبہ: 'یا حی یا قیوم' کا ورد
Post-Marital Business Collapse & Threatened Divorce: 'Ya Hayyu Ya Qayyum' Continuous Wird
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: (سوال نمبر ۷۴ امیج ۲۳)—شادی سے پہلے میرا کام بہت اچھا تھا، شادی ہوتے ہی آہستہ آہستہ کام بگڑنا شروع ہوا اور بالکل ختم ہو گیا۔ مالی حالات میں جب تنگی ہوئی تو بیوی میکے جا کے بیٹھ گئی، اب وہ طلاق لینا چاہتی ہے، براہِ کرم کوئی حل بتائیے۔ جواب: بیوی کو اس کے میکے میں ہی رہنے دیں، آپ ہر طرف سے ذہن ہٹا کر کاروبار میں ذہن لگائیے۔ انشاء اللہ کاروبار میں برکت ہو گی۔ ہر وقت 'یا حی یا قیوم' کا ورد کرتے رہا کریں۔
وظیفہ مبارک و نقش
يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ (اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے ہر وقت بلا تعداد ورد)
ترکیب و طریقہ کار
عملی و نفسیاتی حکمتِ عملی: بیوی کو میکے میں رہنے دیں اور طلاق یا جھگڑے کے بارے میں تکرار بند کر دیں، اس معاملے سے وقتی طور پر ذہن کو بالکل آزاد کر لیں۔
توجہ کا ارتکاز: اپنی تمام تر صلاحیتوں اور دماغ کو اپنے کاروبار اور روزگار کو ازسرنو کھڑا کرنے پر مرکوز کریں۔
دائمی ورد: چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے اور دکان/دفتر میں کام کے دوران زبان یا دل میں ہر وقت: 'يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ' کا ورد جاری رکھیں۔
نتیجہ: اس اسمِ اعظم کے طفیل کاروبار میں غیبی برکت اور مالی کشادگی پیدا ہو گی، اور جب مالی حالات سنور جائیں گے تو بیوی خود بخود راضی ہو کر واپس آ جائے گی۔
توجہ کا ارتکاز: اپنی تمام تر صلاحیتوں اور دماغ کو اپنے کاروبار اور روزگار کو ازسرنو کھڑا کرنے پر مرکوز کریں۔
دائمی ورد: چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے اور دکان/دفتر میں کام کے دوران زبان یا دل میں ہر وقت: 'يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ' کا ورد جاری رکھیں۔
نتیجہ: اس اسمِ اعظم کے طفیل کاروبار میں غیبی برکت اور مالی کشادگی پیدا ہو گی، اور جب مالی حالات سنور جائیں گے تو بیوی خود بخود راضی ہو کر واپس آ جائے گی۔