غم اور خوشی کا دل و جگر پر اثر: روح کی رو اور حسیاتی مراکز

Visceral Impact of Joy & Grief on Heart & Liver: Soul Current and Somatosensory Centers

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

سوال: (سوال نمبر ۶۳ امیج ۲۲)—بعض اوقات انسان کسی چیز یا واقعہ کا تصور کرتا ہے تو اس کے دل یا جگر سے ایک ٹیس اٹھتی ہے یا اندر خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ دل اور جگر جو بے اختیار یا بے شعور چیزیں ہیں، خوشی یا غم کا ادراک کیسے کر لیتے ہیں؟ اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ بڑے سے بڑا غم کوئی اثر نہیں کرتا۔ جواب: جب تک روح انسان کے اندر دور کرتی ہے، انسان زندہ رہتا ہے۔ خوشی اور غم کو محسوس کرنے کے لیے دماغ، دل اور جگر روح کی زد میں زیادہ رہتے ہیں، اس لیے یہ احساس کی دنیا بن گئے ہیں جس سے جذبات بھڑکتے ہیں۔

وظیفہ مبارک و نقش

فلسفۂ تکوین: روح کی لہریں دماغ، دل اور جگر کے حسیاتی مراکز کو سب سے پہلے متحرک کرتی ہیں

ترکیب و طریقہ کار

باطنی اناٹومی: حیاتِ انسانی کی اصل بنیاد روح کی وہ متحرک رو (Current) ہے جو رگ و پے میں دور کر رہی ہے۔
مرکزی اعضاء کا انتخاب: اگرچہ تمام اعضاء روح سے قائم ہیں، لیکن جذبات، احساسات اور کیفیات کے ادراک کے لیے دماغ، دل اور جگر روح کی براہِ راست 'زد' (Primary Focal Path) میں آتے ہیں۔
جذبات کا ارتعاش: جب کوئی فکر، غم یا خوشی کا خیال وارد ہوتا ہے تو روح کے ارتعاش کی لہریں فوری طور پر ان تینوں اعضاء کے بافتوں کو جھنجھوڑتی ہیں، جس سے دل میں ٹیس یا خوشی کی لہر جسمانی طور پر محسوس ہوتی ہے۔
تفاوتِ تاثر: اگر روح کا رخ کسی واقعے پر مکمل مرکوز نہ ہو تو بڑا حادثہ بھی بے اثر محسوس ہوتا ہے، اور اگر توجہ کا ارتکاز ہو جائے تو محض خیال سے بھی دل لرز اٹھتا ہے۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital