خوابوں کی حقیقت، اقسام اور دماغی خلیات کا ٹوٹ پھوٹ (ماضی، حال، مستقبل قریب و بعید کے ۴ خانے)
Neuro-Spiritual Taxonomy of Dreams: 4 Brain Cell Compartments (Past, Present & Future)
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: (سوال نمبر ۶۱ امیج ۲۲، مورخہ ۲۶ جولائی ۱۹۷۶ء)—خواب نظر آتے ہیں اور ان کی حقیقت کیا ہے؟ خواب میں مستقبل کی نشانیاں کیوں کر ہو جاتی ہیں جبکہ بیداری کی حالت میں ہمیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کل ہمارے ساتھ کیا پیش آنے والا ہے؟ کیا اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ سوتے انسان میں جاگتے انسان کی نسبت زیادہ صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں؟ جواب: خوابوں کے ۴ حصے ضرور ہوتے ہیں: (۱) پہلا حصہ: جس میں ماضی کی یادیں اپنا عکس چھوڑ جاتی ہیں اور وہ دماغ کے مخصوص حصے میں محفوظ ہو جاتی ہیں۔ دماغ میں دو کھرب خلیے موجود ہیں۔ یہ خلیے بنتے اور بگڑتے رہتے ہیں، ان کی ٹوٹ پھوٹ سے ماضی کے خواب نظر آتے ہیں۔ (۲) دوسرا حصہ: زمانۂ حال سے وابستہ ہوتا ہے، فی الوقت واقع ہونے والے یا آئندہ کل کے واقعات خلیوں کی ٹوٹ پھوٹ سے ذہن کے پردے پر آ جاتے ہیں۔ (۳) تیسرا حصہ: مستقبل قریب اور مستقبل بعید کا ہے۔ مستقبل کے واقعات دماغ کے مخصوص خانے میں محفوظ رہتے ہیں اور جب اس حصے کے خلیے ٹوٹتے ہیں تو آئندہ پیش آنے والے واقعات پردۂ دماغ پر آ جاتے ہیں۔ (۴) چوتھا حصہ: دماغ کی گہرائی میں محفوظ رہتا ہے، وہ پوری فلم کی شکل میں پردے پر آتا ہے اور نہایت تسلسل کے ساتھ آتا رہتا ہے لیکن حافظے میں نہیں رہتا۔ یہ کچی نیند یا جاگتے وقت دماغ پر آتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جاگتے انسان سے زیادہ صلاحیتیں سوتے انسان میں بیدار ہوتی ہیں۔
وظیفہ مبارک و نقش
ترکیب و طریقہ کار
خانۂ اول (ماضی کے خواب): ماضی کی گزری ہوئی یادیں اور تجربات جب دماغ کے مخصوص خلیوں کے انحطاط سے آزاد ہوتے ہیں تو پرانے خواب بن کر ابھرتے ہیں۔
خانۂ دوم (زمانۂ حال اور کل کے خواب): موجودہ دور یا کل پیش آنے والے روزمرہ کے قریبی واقعات جو حواس میں جذب ہو رہے ہوتے ہیں، وہ فوری طور پر ذہنی پردے پر نمودار ہوتے ہیں۔
خانۂ سوم (مستقبل قریب و بعید کے خواب): آنے والے دنوں، مہینوں یا برسوں کے غیبی واقعات روح کی لوح پر پہلے سے درج ہوتے ہیں، جب متعلقہ دماغی خلیے ٹوٹتے ہیں تو وہ سچے خوابوں اور الہامی اشاروں کی صورت میں جھلک دکھاتے ہیں۔
خانۂ چہارم (مکمل باطنی فلم): دماغ کی عمیق ترین تہوں میں روح کا لامحدود مشاہدہ پوری متحرک فلم کی طرح ایک تسلسل سے چلتا رہتا ہے، لیکن بیدار ہوتے ہی عام انسانی یادداشت اسے محفوظ نہیں رکھ پاتی کیونکہ مادی حواس کا دائرہ تنگ ہے۔
نتیجہ: سوتے وقت مادی جسم کے حواس معطل ہونے سے روح کی پرواز اور اس کی باطنی بصیرت جاگتی حالت کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع اور آزاد ہو جاتی ہے۔