۱۵ سالہ بچے کا غصہ، ناخن چبانا، کند ذہنی (۱۰ تک گنتی نہ آنا): چاندی کے برتن اور لاہوری نمک
Severe Cognitive Retardation, Rage & Onychophagia at Age 15: Pure Silver Utensils & Rock Salt Diet
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: (سوال نمبر ۵۸ دوم امیج ۲۱)—میرے بیٹے شاہد محمود کو غصہ بہت آتا ہے، ہر وقت دانتوں سے ناخن کاٹتا رہتا ہے۔ صبح باغ میں جاتا ہے، پھولوں میں دلچسپی ہے۔ ۱۵ سال کی عمر میں دو تین اسکولوں میں داخل کرایا گیا، ماسٹر سے ٹیوشن بھی پڑھتا ہے لیکن ایک سے دس تک گنتی بھی نہیں سیکھ سکا۔ تمام مشہور ماہرینِ امراض سے علاج کرایا، دماغ کا ایکسرے بھی کرایا، کوئی نقص نہیں ہے۔ کوئی علاج بتائیے کہ خدا شفا دے۔ جواب: چاندی کا ایک کٹورا اور ایک رکابی بنوا لیجئے۔ تین ماہ تک چاندی کے کٹورے یا پیالے میں پانی پلائیے اور پلیٹ میں کھانا کھلائیے۔ اس بات کی کوشش کیجئے کہ پانی اور کھانے کا استعمال ان برتنوں کے علاوہ کسی اور برتن میں نہ کیا جائے۔ کھانوں میں نمک کی مقدار کم کر کے چوتھائی کر دیں۔ بازار سے پسا ہوا نمک ہرگز نہ کھایا جائے، لاہوری ثابت نمک گھر میں پیس کر استعمال کریں۔
وظیفہ مبارک و نقش
ترکیب و طریقہ کار
تین ماہ کا سخت اصول: بچے کو پانی پلانے کے لیے صرف چاندی کا پیالہ اور کھانا کھلانے کے لیے صرف چاندی کی پلیٹ استعمال کریں۔ ان دو برتنوں کے علاوہ کسی شیشے، مٹی یا دھات کے برتن میں کچھ نہ دیں۔
نمک کی مقدار میں کمی: بچے کے کھانے میں نمک کی مقدار گھٹا کر معمول کا صرف چوتھائی (۱/۴) حصہ کر دیں۔
بازاری نمک سے پرہیز: بازار سے خریدا ہوا پسا ہوا کیمیکل ملا نمک ہرگز استعمال نہ کرائیں، بلکہ ثابت لاہوری نمک خرید کر خود گھر میں پیسیں اور وہی سالن میں ڈالیں۔
مدت: تین (۳) ماہ کے مستقل استعمال سے اعصابی سوزش ختم ہو گی، ذہنی کندی دور ہو گی اور فہم و فراست بیدار ہو گی۔