دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے؟ (اعتماد کی بحالی اور وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ کا فریم)
Acute Social Phobia, Examination Blackouts, Palpitations & Surah Ash-Shu'ara Verse 226 Inscription
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
سوال: اکثر اوقات کسی سے بات کرتے وقت گھبرا جاتا ہوں، رو برو کھڑا ہونا پڑے تو دل کی دھڑکن بہت تیز ہو جاتی ہے، چہرہ زرد ہو جاتا ہے، ٹانگیں کانپنے لگتی ہیں۔ ذہن پر معمولی بات کا اتنا بوجھ پڑ جاتا ہے کہ بے چینی ہونے لگتی ہے۔ اچانک نام پکارنے سے نروس ہو جاتا ہوں۔ کسی بڑے آدمی کا سامنا نہیں کر سکتا، اگر بات کرنی پڑے تو کانفیڈنس سے نہیں کر سکتا۔ رات دن تیاری کر کے کمرہ امتحان میں جاتا ہوں، لکھتے وقت سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا لکھوں، نتیجہ یہ ہے کہ بہت کم نمبر آتے ہیں تو بددل ہو جاتا ہوں۔ لاشعوری طور پر الجھا الجھا سا رہتا ہوں، حالانکہ دو سال قبل تک تعلیمی اداروں میں امتیازی حیثیت رہی ہے، لیکن یونیورسٹی میں باوجود دن رات پڑھنے کے تمام طلباء سے کلاس میں آخری مقام پر جا ٹھہرا ہوں، اور روز بروز صحت کے ساتھ ساتھ تعلیمی معیار گرتا ہی جا رہا ہے۔ سخت کوفت اور پریشانی سے دوچار ہوں، گھر میں کچھ سکون رہتا ہے لیکن باہر ہمیشہ کسی سہارے کا متلاشی رہتا ہوں۔
وظیفہ مبارک و نقش
ترکیب و طریقہ کار
وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ (سورۃ الشعراء: ۲۲۶)
اسے فوٹو کی طرح فریم کروا لیں اور کمرے میں آویزاں کریں۔
رات کو سونے سے پہلے ۵ سے ۱۰ منٹ تک اس عبارت کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھا کریں۔
ہدایت: دیکھتے وقت آپ کی آنکھوں اور کاغذ کے درمیان فاصلہ ۳ سے ۵ فٹ ہونا چاہیے۔