عالمِ ارواح میں ملکہ نور جہاں کا حشر اور دوزخ کا راز (تنہائی، حسرت اور شوہر کی ناشکری کا انجام)

Visions of the Unseen: Mughal Empress Noor Jahan in Barzakh & Hellfire for Ingratitude to Husband

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

مشاہدہ: عالمِ ارواح میں مغل ملکہ نور جہاں شدید پژمردگی اور غیظ و غضب کی حالت میں ملتی ہیں اور کہتی ہیں کہ 'مرنے کے بعد کسی نے میری خبر نہیں لی، میں کنیزوں کو بلاتی ہوں تو وہ مجھ پر ہنستی ہیں اور کوئی حکم نہیں مانتا'۔ انہوں نے اپنی قبر کا مشہور شعر پڑھا: 'بر مزارِ ما غریباں نے چراغ نے گلے / نے پر پروانہ سوزد نے صداۓ بلبلے'۔ آگے چل کر دوزخ کی عورتیں نظر آئیں جو جنت کے نظارے دیکھ کر حسرت سے گھل رہی تھیں اور سبب پوچھنے پر بتایا کہ 'ہم نے دنیا میں اپنے خاوندوں کے ہمدردانہ سلوک کی ہمیشہ ناشکری کی'۔

وظیفہ مبارک و نقش

فرمانِ رسولؐ: 'رَأَيْتُ النَّارَ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ يَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ' (میں نے دوزخ میں عورتوں کو زیادہ دیکھا کیونکہ وہ شوہر کی احسان فراموشی کرتی ہیں)

ترکیب و طریقہ کار

دنیاوی اقتدار کی بے ثباتی: ملکہ نور جہاں جس کے اشارے پر ہندوستان کی حکومت چلتی تھی، برزخ میں ایک حقیر کنیز کی توجہ کے لیے ترس رہی ہے۔ دنیاوی جاہ و جلال موت کے بعد کوئی فائدہ نہیں دیتا۔
شوہر کی ناشکری کی سنگینی: احادیثِ مبارکہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واضح فرمایا ہے کہ عورتوں کے دوزخ میں جانے کا بڑا سبب شوہر کے حسنِ سلوک اور نیکیوں کی ناشکری اور شکوہ کناں رہنا ہے (کہ 'تم نے میرے ساتھ کبھی کوئی بھلائی نہیں کی')۔
اصلاحی پیغام: خواتین اپنے شوہروں کے جائز حقوق، محبت اور محنت کی قدر کریں اور زبان سے شکوے اور ناشکری کے بجائے شکر گزاری اور اطاعت شعاری اختیار کریں۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital