عالمِ اعراف کا مشاہدہ: یتیموں کا مال غصب کرنے کا عذاب (۲۰ فٹ دیو قامت جسم، پیٹ میں آگ اور چھتوں پر چھلانگیں)

Visions of A'raaf: Embezzlement of Orphans' Wealth — 20-Foot Gigantic Corpse Engulfed in Abdominal Fire

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

مشاہدہ: تقریباً ۲۰ فٹ لمبا اور بے انتہا چوڑا دیو قامت انسان جو جسم کے اتنے بڑے ہونے کی وجہ سے کسی مکان میں نہیں سما سکتا۔ وہ اضطراب و بے چینی میں مکانوں کی چھتوں پر پاگلوں کی طرح گھومتا اور ایک چھت سے دوسری پر چھلانگیں لگاتا ہے۔ پوچھنے پر اس نے رو کر بتایا: 'میں نے دنیا میں یتیموں کا حق غصب کر کے عالیشان عمارتیں بنائیں، آج ان عمارتوں کے دروازے مجھ پر بند ہیں۔ ان کے مال سے کھائے گئے لذیذ کھانوں نے میرے پیٹ میں آگ اور ہوا بھر دی ہے جو مجھے اندر سے جلا رہی ہے اور فرار کی تمام راہیں مسدود ہو چکی ہیں۔'

وظیفہ مبارک و نقش

فرمانِ الٰہی: 'إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا' (النساء: ۱۰)

ترکیب و طریقہ کار

یتیموں کے مال کی ہلاکت خیزی: قرآنِ مجید صراحت سے فرماتا ہے کہ یتیموں کا مال ناحق کھانا اپنے پیٹ کو انگاروں اور جہنم کی آگ سے بھرنا ہے۔
تجسیمِ جائیداد و عمارتیں: انسان دنیا میں غصب شدہ دولت سے جن اونچی عمارتوں پر اتراتا ہے، برزخ میں اس کا جسم تو اس عمارت جتنا پھیل جاتا ہے مگر اسے چھت کی پناہ نہیں ملتی۔ پیٹ کے اندر بھڑکتی ہوئی آگ اسے چین سے بیٹھنے یا لیٹنے نہیں دیتی۔
تنبیہ: کسی یتیم، مسکین یا کمزور کے حق پر کبھی قابض نہ ہوں، اور اگر کسی کا حق دبایا ہو تو فوراً اس کے ورثاء کو لوٹا کر توبہ کریں۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital