ہندو عورت پر دورہ اور قبلہ رخ ہو کر نماز پڑھنا (روحانی توجیہ: مومن کے اعراف کے اثرات اور لاشعوری غلبہ)

Hindu Shopkeeper Seizure & Spontaneous Islamic Salah: Parapsychological Mechanics of A'raaf

ماخذ و کتاب: روحانی علاج

مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)

پس منظر، علامات اور روحانی حکمت

سوال: (ہندو عورت کی نماز)—بازار میں منیاری بیچنے والی ۶۰ سالہ ہندو عورت پر دورہ پڑا، غیر معمولی طاقت سے ۶ مردوں کو جھٹک کر بھاگی، قبلہ رخ ہو کر باقاعدہ اللہ اکبر کہہ کر پوری نماز رکوع و سجود کے ساتھ پڑھی اور سلام پھیرتے ہی بالکل تندرست ہو گئی۔ معلوم ہوا ۲۵ سال سے یہ دورہ پڑتا ہے اور نماز کے بعد ٹھیک ہو جاتی ہے۔ اس واقعے پر روشنی ڈالیے۔

وظیفہ مبارک و نقش

روحانی و علمی توجیہ: کسی متقی مومن کے اعراف (A'raaf) کے اثرات جب اس عورت کے لاشعور پر غالب آتے ہیں تو اس سے نماز کا صدور ہوتا ہے

ترکیب و طریقہ کار

فلسفیانہ و مابعد الطبیعیاتی مقدمہ: مادہ پرست ہمیشہ روح کے منکر رہے مگر انبیاء کا اجماع ہے کہ روح مادے کا سہارا لیے بغیر احساس، حرکت اور زندگی پر گرفت رکھتی ہے۔ اس باطنی دائرے کو 'اعراف' کہا جاتا ہے جسے قرآن میں علیین اور سجین سے تعبیر کیا گیا ہے۔
اعراف کے اثرات کا قانون: جہاں بھی مسلمان رہے اور دفن ہوئے، ان کے اعراف وہاں قیامت تک قائم رہتے ہیں۔ جب کوئی شخص ایسے مقام پر رہے اور اس کا ذہن کسی لمحے یکسو ہو جائے تو اس کے لاشعور کا براہِ راست رابطہ اس مومن کے اعراف سے جڑ جاتا ہے۔
واقعے کی حقیقت: یہ ہندو عورت کسی متقی مومن کی ارواح (اعراف) کے حلقہ اثر میں رہتی ہے۔ جب اس کا اثر شدید ہو جاتا ہے تو اس کا عام شعور معطل ہو جاتا ہے اور اس پر اس مومن کے اعراف کی کیفیات و اعمال (نماز، تکبیر، رکوع و سجود) کا غلبہ ہو کر وہ اس سے ظاہر ہو جاتے ہیں، اور نماز مکمل ہوتے ہی وہ اپنی عام حالت پر لوٹ آتی ہے۔

روحانی علاج ڈیجیٹل

Roohani Ilaj Digital