خواب، حواس اور زمان و مکان کی علمی توجیہ (علمِ مابعد النفسیات: زمان و مکان کا ترچھا پن اور فکری ارتقاء)
Metapsychology of Dreams, Curved Space-Time, Speed of Light & Evolution of Human Cognition
ماخذ و کتاب: روحانی علاج
مصنف: حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی (رحمۃ اللہ علیہ)
پس منظر، علامات اور روحانی حکمت
علمی توجیہ (۱۹۷۸-۷-۷): ایک قاری کے خط کے جواب میں خواب کے متعلق حواس، زمان و مکان کی علمی و سائنسی توجیہ اور علمِ مابعد النفسیات (Metapsychology)۔ انسان کے طرزِ کلام کی خامیاں، تاریخِ علوم کا ارتقاء، فرائڈ کی محدودیت، اور آئن سٹائن کے زمان و مکان کے ترچھے پن کی فلسفیانہ حقیقت۔
وظیفہ مبارک و نقش
علمِ مابعد النفسیات کے تحت انسانی حواس کی حدود، زمان و مکان کے ترچھے پن اور سچی آگہی کی فکری تفہیم
ترکیب و طریقہ کار
۱۔ انسانی زبان کی کمزوری: نوعِ انسانی کا طرزِ کلام جتنا محدود ہے اور اس میں جو خامیاں ہیں انسان اس پر غور نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر 'گھنا جنگل' کہہ کر انسان مطمئن ہو جاتا ہے حالانکہ اس نے درختوں، پودوں، پرندوں، چٹانوں کی اصل حقیقت اور تعداد کا کوئی تفصیلی علم بیان نہیں کیا۔
۲۔ علمی ارتقاء کے ادوار:
• ہزاروں سال پہلے: مادہ پرستی، ستارہ پرستی، ارواح کا مرکز اور دیوتاؤں کے مجسمے۔
• یونانی دور: فیثاغورث اور تھیلس نے کائنات اور مادے کے اجزا پر فلسفیانہ بحثیں شروع کیں اور آنکھوں سے شعاعیں نکلنے کا نظریہ پیش کیا۔
• نیوٹن کا دور: کششِ ثقل، مکانیکی اصول اور ریل گاڑیوں/کمانیوں جیسی نیچر کا تصور۔ پھر ڈیموکریٹس کا ۲۲۰۰ سال پرانا 'جزوِ لا یتجزیٰ' (Unsplittable Atom) کا نظریہ جو بالآخر جوہر کے ٹوٹنے پر باطل ہوا۔
• فرائڈ کا مغالطہ: فرائڈ نے روح کے تصور سے بچنے کے لیے انسان کے تمام جذبات و حسرتوں کو 'لیبیڈو' اور 'لاشعور' کا نام دے دیا۔
۳۔ آئن سٹائن اور زمان و مکان کا ترچھا پن: آئن سٹائن نے زمان و مکان (Space-Time) کو یکجا کیا اور بتایا کہ کائنات میں حرکت عمودی (Straight / Linear) نہیں بلکہ مکان میں ترچھا پن (Curvature) ہے۔
۴۔ علمِ مابعد النفسیات کا ماحصل: اگر روشنی کی رفتار ۱ لاکھ ۸۶ ہزار ۲۸۲ میل فی سیکنڈ مانی جائے تو فاصلوں کو سیدھی لکیروں سے نہیں ناپا جا سکتا۔ علمِ مابعد النفسیات بتاتا ہے کہ انسان خواب اور بیداری میں جن حواس پر تکیہ کرتا ہے وہ جزوی ہیں، اور اصل حقیقت ان ظاہری حواس کی پہنچ سے بہت آگے ہے۔
۲۔ علمی ارتقاء کے ادوار:
• ہزاروں سال پہلے: مادہ پرستی، ستارہ پرستی، ارواح کا مرکز اور دیوتاؤں کے مجسمے۔
• یونانی دور: فیثاغورث اور تھیلس نے کائنات اور مادے کے اجزا پر فلسفیانہ بحثیں شروع کیں اور آنکھوں سے شعاعیں نکلنے کا نظریہ پیش کیا۔
• نیوٹن کا دور: کششِ ثقل، مکانیکی اصول اور ریل گاڑیوں/کمانیوں جیسی نیچر کا تصور۔ پھر ڈیموکریٹس کا ۲۲۰۰ سال پرانا 'جزوِ لا یتجزیٰ' (Unsplittable Atom) کا نظریہ جو بالآخر جوہر کے ٹوٹنے پر باطل ہوا۔
• فرائڈ کا مغالطہ: فرائڈ نے روح کے تصور سے بچنے کے لیے انسان کے تمام جذبات و حسرتوں کو 'لیبیڈو' اور 'لاشعور' کا نام دے دیا۔
۳۔ آئن سٹائن اور زمان و مکان کا ترچھا پن: آئن سٹائن نے زمان و مکان (Space-Time) کو یکجا کیا اور بتایا کہ کائنات میں حرکت عمودی (Straight / Linear) نہیں بلکہ مکان میں ترچھا پن (Curvature) ہے۔
۴۔ علمِ مابعد النفسیات کا ماحصل: اگر روشنی کی رفتار ۱ لاکھ ۸۶ ہزار ۲۸۲ میل فی سیکنڈ مانی جائے تو فاصلوں کو سیدھی لکیروں سے نہیں ناپا جا سکتا۔ علمِ مابعد النفسیات بتاتا ہے کہ انسان خواب اور بیداری میں جن حواس پر تکیہ کرتا ہے وہ جزوی ہیں، اور اصل حقیقت ان ظاہری حواس کی پہنچ سے بہت آگے ہے۔